لاہور: لاہور جنرل اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے اور دھواں بھرنے کے بعد حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو عمارت سے باہر نکال لیا گیا۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست چیک کی گئی رپورٹ کے مطابق واقعے میں دھویں سے ایک سکیورٹی گارڈ کی حالت خراب ہوئی، جسے اسپتال کی ایمرجنسی میں طبی امداد دی گئی اور انتظامیہ نے بعد میں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی۔

رپورٹ میں اسپتال ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ آگ چھت میں نصب برقی وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ عملے نے فوری کارروائی کرکے چند منٹ میں آگ پر قابو پالیا، تاہم وارڈ میں دھواں پھیلنے کے باعث مریضوں اور دیگر موجود افراد کو احتیاطاً منتقل کرنا پڑا۔ رپورٹ میں کسی مریض، تیماردار یا طبی کارکن کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اسپتال کے عملے نے واقعے پر بروقت قابو پایا اور مریضوں، لواحقین یا طبی عملے کو نقصان نہیں پہنچا۔ یہ صوبائی حکومت کا سرکاری بیان ہے۔ آگ کی وجہ سے متعلق ابتدائی اطلاع شارٹ سرکٹ کی ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی آزاد تکنیکی معائنے یا حتمی فائر انکوائری کا نتیجہ شامل نہیں۔

حاملہ خواتین اور دوسرے افراد کا انخلا طبی اداروں میں دھویں کے خطرے سے بچاؤ کا احتیاطی قدم تھا۔ آگ بجھنے کے بعد وارڈ کی برقی تنصیبات، چھت اور دھواں نکالنے کے انتظام کی مکمل جانچ سے ہی یہ طے ہوگا کہ متاثرہ حصہ دوبارہ معمول کے استعمال کے لیے کب محفوظ ہے۔ براہ راست رپورٹ میں وارڈ کی خدمات کی مکمل بحالی کا وقت نہیں بتایا گیا۔

واقعے میں ایک گارڈ کا دھویں سے متاثر ہونا اس امر کی یاد دہانی ہے کہ محدود آگ بھی بند اسپتال عمارت میں صحت کے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم دستیاب شواہد کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا، بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوا اور گارڈ زیر علاج مگر خطرے سے باہر تھا۔

خبر کو انہی تصدیق شدہ حدود تک رکھا گیا ہے: مقام لاہور جنرل اسپتال کا گائنی وارڈ، ابتدائی وجہ چھت کی وائرنگ کا شارٹ سرکٹ، 70 افراد کا انخلا، ایک گارڈ کا متاثر ہونا اور آگ پر فوری قابو پانا۔ حتمی تکنیکی وجہ یا کسی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بغیر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک