پنجاب اسمبلی نے انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 اپوزیشن کے شدید اعتراضات اور ایوان سے واک آؤٹ کے دوران منظور کر لیا ہے۔ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کے درمیان بل کی قانونی اور آئینی حیثیت پر بحث ہوئی، جبکہ اسپیکر ملک محمد احمد خان نے آئین کے آرٹیکل 142 کا حوالہ دیتے ہوئے رولنگ دی کہ بل کو ایجنڈے پر لایا جا سکتا ہے۔
بل میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعہ 21AAA شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے ایسے مقدمات کے لیے ’خصوصی سکیورٹی کیس‘ کا نظام بنایا جائے گا جن میں کارروائی سے وابستہ افراد کو غیر معمولی تحفظ کی ضرورت سمجھی جائے۔ مجوزہ قانون کے تحت کم از کم گریڈ 20 کا ایک نامزد افسر کسی مقدمے یا مقدمات کی ایک قسم کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دینے کا اختیار رکھے گا۔ اس افسر کی شناخت بھی خفیہ رکھی جا سکے گی اور اس کی درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت کے کسی جج کو تفویض کر سکیں گے۔
بل کے مطابق ججوں، سرکاری وکلا، صفائی کے وکلا، پولیس اہلکاروں، گواہوں اور کارروائی سے متعلق دیگر افراد کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔ عدالتی احکامات میں جج کے نام کے بجائے سرکاری عہدہ درج کیا جا سکے گا جبکہ گواہوں کو کوڈ کے ذریعے شناخت کیا جائے گا۔ کارروائی محفوظ مقام پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے، جیل سے بھی، منعقد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے قانون کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ جج، وکلا اور گواہوں کی شناخت یا آواز چھپانے سے آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ اور شفاف ٹرائل کے حق سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اپوزیشن کے سیاسی اور قانونی اعتراضات ہیں؛ بل کی حتمی آئینی حیثیت کا تعین کسی عدالتی جانچ کی صورت میں عدالت کرے گی۔
اسپیکر نے بل کے دفاع میں کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں اور متعلقہ افراد کی جسمانی سلامتی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے اور مؤثر تحفظ نہ ہونے سے مقدمات متاثر ہوتے رہے ہیں۔ بحث کے بعد اپوزیشن نے نعرے لگاتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ کورم کی نشاندہی بھی کی گئی، تاہم حکومتی بنچ مطلوبہ تعداد پوری کرنے میں کامیاب رہے۔ اپوزیشن کی عدم موجودگی میں ان کی مجوزہ ترامیم مسترد ہوئیں اور ایوان نے بل منظور کر لیا۔




