کراچی میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کلفٹن کے علاقوں میں پانی کی دیرینہ قلت کم کرنے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے ڈملوٹی سے ایک مخصوص نئی پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ منصوبے کی تخمینی لاگت 14 ارب روپے ہے اور حکام کے مطابق تعمیراتی کام جلد شروع کر کے اسے 12 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
معاہدے کی تقریب میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، کے ڈبلیو ایس سی اور ایف ڈبلیو او کے سینئر حکام سمیت متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ میئر کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے پر ڈملوٹی سے ڈیفنس اور کلفٹن کو روزانہ اضافی 10 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا سکے گا۔ اس مخصوص لائن کا مقصد شہر کے ان علاقوں کو نسبتاً زیادہ قابلِ اعتماد سپلائی دینا ہے جہاں رہائشی طویل عرصے سے ٹینکروں پر انحصار کرتے آ رہے ہیں۔
کراچی میں پانی کی مجموعی طلب اور دستیاب سپلائی کے درمیان بڑا فرق بدستور موجود ہے۔ حکام کے مطابق شہر کی یومیہ طلب تقریباً 1,200 ملین گیلن ہے جبکہ موجودہ نظام سے تقریباً 550 سے 650 ملین گیلن پانی فراہم ہو پاتا ہے۔ اس تناظر میں 10 ملین گیلن یومیہ کی نئی فراہمی شہر کے مجموعی خسارے کا محدود حصہ پورا کرے گی، تاہم ڈیفنس اور کلفٹن کے لیے اسے فوری نوعیت کے ریلیف منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے دائرہ کار میں ڈملوٹی سے مخصوص پائپ لائن کی تعمیر اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تکمیل شامل ہے۔ سندھ حکومت پہلے اس منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری دے چکی ہے، جس کے بعد انجینئرنگ ڈیزائن، پائپ میٹریل، ٹیکس، مہنگائی، فلٹریشن سہولیات اور نگرانی کے نظام جیسے عوامل کو شامل کرتے ہوئے تخمینہ بڑھایا گیا تھا۔
تقریب میں ایف ڈبلیو او کے بریگیڈیئر عدنان اختر علی، ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر امیر نواز خان، بلدیاتی حکام اور کے ڈبلیو ایس سی کی انتظامیہ بھی موجود تھی۔ منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ تعمیر مقررہ مدت میں مکمل ہو، ڈملوٹی سے مطلوبہ مقدار میں پانی مسلسل دستیاب رہے اور نئی لائن کو شہر کے موجودہ تقسیم نظام کے ساتھ مؤثر انداز میں مربوط کیا جائے۔ کراچی کے وسیع تر آبی بحران کے حل کے لیے اس کے ساتھ بڑے فراہمی اور ترسیلی منصوبوں کی ضرورت بدستور برقرار رہے گی۔




