کراچی میں ایم پاکس کی تشخیص ہونے والا ایک شیر خوار بچہ دورانِ علاج انتقال کر گیا ہے۔ صحت حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ کراچی میں مرض کی تشخیص ہونے والا پہلا شیر خوار مریض تھا۔ اس موت کے بعد سندھ میں رواں سال ایم پاکس سے منسلک اموات کی تعداد 12 بتائی گئی ہے، جبکہ صوبے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 98 تک پہنچ چکی ہے۔
بچے کو طبی علامات کے بعد اسپتال لایا گیا تھا جہاں معائنے اور ٹیسٹنگ کے دوران ایم پاکس کی تشخیص ہوئی۔ شیر خوار بچوں میں کسی بھی متعدی بیماری کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے، اس لیے ایسے کیسز صحت کے نظام کے لیے خصوصی نگرانی اور فوری طبی نگہداشت کا تقاضا کرتے ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں بچے کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور مریض کی رازداری کے پیش نظر ذاتی تفصیلات شامل نہیں کی جا رہیں۔
صوبائی صحت حکام کے لیے اس واقعے کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ بچے میں وائرس کی منتقلی کس ذریعے سے ہوئی اور قریبی رابطوں میں کسی دوسرے شخص میں علامات یا انفیکشن موجود ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے رابطہ افراد کی نشاندہی اور طبی نگرانی وبائیاتی تحقیقات کا بنیادی حصہ ہوتی ہے۔
سندھ میں 98 کیسز اور 12 اموات کے اعداد و شمار مرض کی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایم پاکس کی علامات میں بخار، جسمانی درد اور جلد پر دانے یا زخم شامل ہو سکتے ہیں، تاہم تشخیص صرف علامات کی بنیاد پر نہیں کی جانی چاہیے اور مشتبہ مریضوں کو مستند طبی معائنہ اور ضروری ٹیسٹنگ سے گزرنا چاہیے۔
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں صحت حکام کے لیے بروقت کیس رپورٹنگ، اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، رابطہ ٹریسنگ اور عوام کو درست معلومات کی فراہمی اہم ہے۔ شیر خوار بچے کی موت ایک سنگین واقعہ ہے، مگر کسی ایک کیس کی بنیاد پر وائرس کی شدت یا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ مزید سرکاری اور طبی ڈیٹا سے صوبے میں ایم پاکس کی موجودہ صورت حال کی بہتر تصویر سامنے آئے گی۔

