پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی گھر میں نظر بند ہیں اور ان کے بقول دونوں ”محفوظ ہاتھوں“ میں ہیں۔ یہ بیان صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیاسی و انتظامی صورتحال سے متعلق جاری سوالات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی 11 اکتوبر کو وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد بطور وزیراعلیٰ غیر فعال ہو چکے ہیں۔ اسی روز ان کے اور بعض دیگر صوبائی عہدیداروں کے مقام کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ اگلے روز ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی تھی کہ آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان احتیاطی حراست میں ہیں۔
گورنر کنڈی کا تازہ بیان اس معاملے میں یہ نئی وضاحت فراہم کرتا ہے کہ سہیل آفریدی اور اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی اس وقت گھر میں نظر بند ہیں۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں نظر بندی کے قانونی حکم کی مکمل تفصیل، مدت، عائد پابندیوں کی نوعیت یا ان کے خلاف کسی مخصوص مقدمے کی نئی کارروائی بیان نہیں کی گئی۔ ان نکات پر حتمی رائے متعلقہ سرکاری احکامات یا عدالتی ریکارڈ سامنے آنے کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے اختیارات، منتخب عہدیداروں کی عملی حیثیت اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق صورتحال قومی سیاست کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں گورنر کا بیان انتظامی موقف کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ متاثرہ سیاسی رہنماؤں یا ان کی جماعت کا تفصیلی تازہ مؤقف دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔
خبر میں ”محفوظ ہاتھوں“ کی اصطلاح گورنر فیصل کریم کنڈی سے منسوب ہے اور اسے سرکاری موقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ گھر میں نظر بندی اور احتیاطی حراست قانونی طور پر الگ اصطلاحات اور طریقہ کار رکھ سکتی ہیں، اس لیے ان کی درست قانونی حیثیت متعلقہ نوٹیفکیشنز اور عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت گورنر کی جانب سے دونوں صوبائی عہدیداروں کے گھر میں نظر بند ہونے کی تصدیق ہے۔
