مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے شکر پٹیاں میں ایک مسافر جیپ گہری کھائی میں گرنے سے سات افراد جاں بحق ہوگئے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ریڈیو پاکستان اور امدادی حکام کے حوالے سے بتایا کہ جاں بحق افراد میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق جیپ شکر پٹیاں سے سری درہ کی جانب جا رہی تھی اور اس پر گھاس بھی لدی ہوئی تھی۔ دشوار گزار سڑک کے ایک حصے سے گزرتے ہوئے ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا، جس کے نتیجے میں جیپ سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔ حکام نے بعد میں گاڑی میں موجود تمام سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی، جن میں ڈرائیور عبد الوحید بھی شامل تھا۔

حادثے کی جگہ پہاڑی اور دشوار گزار ہونے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو وہاں پہنچنے اور امدادی کارروائی کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہاڑی علاقوں میں حادثے کے بعد فوری طبی امداد تک رسائی اکثر فاصلے، سڑک کی حالت اور کھائیوں کی گہرائی کے باعث مشکل ہو جاتی ہے، جس سے ریسکیو آپریشن کا وقت بڑھ سکتا ہے۔

یہ حادثہ آزاد کشمیر میں ایک اور مہلک سڑک حادثے کے ایک روز بعد پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق وادی نیلم میں مذہبی مدرسے جانے والے بچوں کی وین تقریباً 500 میٹر گہری کھائی میں گر گئی تھی۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے چار بچے جاں بحق ہوئے جبکہ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ دونوں واقعات الگ مقامات اور الگ گاڑیوں سے متعلق ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی راستوں پر ٹریفک کے حفاظتی خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔

شکر پٹیاں حادثے کے بارے میں دستیاب ابتدائی رپورٹ میں کسی تکنیکی خرابی، ڈرائیور کی غفلت یا سڑک کے ڈیزائن کو حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ مشکل سڑک پر ڈرائیور گاڑی کا کنٹرول کھو بیٹھا۔ کسی حادثے کی قانونی یا تکنیکی ذمہ داری کا تعین پولیس یا متعلقہ حکام کی تفتیش کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ معلومات سات اموات، حادثے کے مقام، سفر کے راستے اور ریسکیو ٹیموں کو پیش آنے والی مشکلات تک محدود ہیں۔