لاہور: پنجاب حکومت نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ’لاسٹ مائل‘ پروگرام پر عمل درآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد موجودہ واٹر فلٹریشن انفراسٹرکچر کو فعال کرنا اور ایسی آبادیوں تک محفوظ پانی پہنچانا ہے جہاں مرکزی نظام کی رسائی محدود ہے۔ ریڈیو پاکستان کی 25 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو کام کی رفتار اور معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

سرکاری معلومات کے مطابق پروگرام میں تقریباً پانچ ہزار واٹر فلٹریشن پلانٹس کو فعال یا مؤثر بنانے کا ہدف شامل ہے۔ منصوبے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ بڑے شہری یا ضلعی نظام سے آگے آخری آبادی تک پانی کی رسائی میں موجود خلا کو پُر کیا جائے۔ ایسے علاقوں میں مقامی فلٹریشن پلانٹس، پانی کی فراہمی کے چھوٹے نظام اور آپریشن و مینٹیننس کے انتظامات مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے حکام سے کہا کہ صاف پانی کے منصوبوں کو محض تنصیب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے مسلسل فعال رہنے، فلٹرز کی بروقت تبدیلی، پانی کے معیار کی جانچ اور مقامی سطح پر نگرانی کا قابلِ عمل نظام بھی یقینی بنایا جائے۔ ماضی میں متعدد فلٹریشن پلانٹس دیکھ بھال، بجلی، تکنیکی خرابی یا انتظامی کمزوری کے باعث غیر فعال ہونے کی شکایات کا سامنا کرتے رہے ہیں، اس لیے موجودہ پروگرام میں پائیدار آپریشن اہم امتحان ہوگا۔

سرکاری بریفنگ میں چکوال، راولپنڈی اور راجن پور سمیت مختلف اضلاع میں کام کا حوالہ دیا گیا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ صاف پانی تک رسائی صحت عامہ کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے پانی کے معیار کو مسلسل مانیٹر کرنا ضروری ہے۔ دیہی اور نسبتاً دور دراز علاقوں میں یہ ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے جہاں متبادل محفوظ ذرائع محدود ہو سکتے ہیں۔

دستیاب اطلاع میں ہر ضلع کے لیے مکمل تعداد، تمام پلانٹس کی انفرادی لاگت یا پورے پروگرام کی حتمی مالی تفصیل یکجا طور پر فراہم نہیں کی گئی، اس لیے پانچ ہزار پلانٹس کے ہدف کو پروگرام کی مجموعی سمت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ منصوبے کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف پلانٹس کی تعداد نہیں بلکہ ان کا مسلسل فعال رہنا، پانی کے معیار کے ٹیسٹ اور مقامی آبادی تک قابلِ اعتماد رسائی ہوگی۔