کراچی کے انڈس ہسپتال و ہیلتھ نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران اس کے ہسپتال میں ریبیز کے 28 کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں کتے کے کاٹنے کے 14 ہزار سے زیادہ مریض علاج کے لیے پہنچے۔ یہ اعداد 2 اکتوبر کو عالمی یومِ ریبیز کے سلسلے میں منعقدہ ایک پروگرام میں پیش کیے گئے، جس کا مقصد بیماری سے بچاؤ، بروقت علاج اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا تھا۔

ڈان کے مطابق ہسپتال حکام نے بتایا کہ حالیہ دو مریضوں میں حیدرآباد کے لطیف آباد کی چھ سالہ بچی اور دادو کا چار سالہ بچہ شامل تھے، جن کے کیس بالترتیب 20 اور 27 ستمبر کو رپورٹ ہوئے۔ ادارے کے مطابق 2025 میں اسی ہسپتال میں کم از کم نو ریبیز اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کی مناسب صفائی، ویکسین اور ضرورت کے مطابق مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس سے بیماری کو روکا جا سکتا ہے۔

انڈس ہسپتال حکام نے پاکستان میں سالانہ ریبیز اموات کا تخمینہ دو ہزار سے پانچ ہزار کے درمیان بتایا اور کہا کہ تقریباً 96 فیصد کیس متاثرہ کتوں کے کاٹنے سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ قومی سطح کے تخمینے ہیں، جبکہ ہسپتال کے 28 کیس صرف اس ایک ادارے میں رپورٹ ہونے والے مریضوں کی تعداد ظاہر کرتے ہیں اور انہیں پورے کراچی یا سندھ کے مجموعی اعداد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

انڈس ہسپتال و ہیلتھ نیٹ ورک نے 2008 میں خصوصی ریبیز پریونشن اینڈ ٹریننگ سینٹر قائم کیا تھا۔ ادارے کے مطابق اس کے بعد سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتے کے کاٹنے کے کیسز کا انتظام کیا جا چکا ہے، عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق مفت پوسٹ ایکسپوژر علاج کو نیٹ ورک میں وسعت دی گئی ہے اور 700 سے زیادہ طبی کارکنوں کو تربیت دی گئی ہے۔ سندھ میں سیف سندھ پروگرام کے تحت 90 سے زیادہ اینٹی ریبیز ریفرل مراکز سے وابستہ 160 طبی کارکنوں کو ماسٹر ٹرینر بھی بنایا گیا ہے۔

سندھ کے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے تقریب میں کہا کہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں اضافے کو صرف بیماری کے پھیلاؤ سے نہیں جوڑا جا سکتا بلکہ بہتر آگاہی اور رپورٹنگ بھی اس میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ صوبائی حکومت نے 2030 تک کتوں سے منتقل ہونے والے انسانی ریبیز سے اموات ختم کرنے کے عالمی ہدف کے لیے طبی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ماہرین نے شہریوں پر زور دیا کہ جانور کے کاٹنے کے بعد علامات کے انتظار کے بجائے فوری طبی مدد حاصل کی جائے۔