اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون، یعنی اسپیشل اکنامک زون، کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف اپروول کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں صنعتی سرمایہ کاری، بنیادی سہولیات اور نجی زونز کے لیے یوٹیلٹی خدمات سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے۔
خصوصی اقتصادی زون کا درجہ صنعتی منصوبوں کے لیے ایک باقاعدہ پالیسی اور مراعاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ حکومت ایسے زونز کے ذریعے صنعتوں کو مخصوص علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، توانائی اور دیگر سہولیات کے ساتھ مجتمع کرنے اور نئی سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، اس لیے نئے وفاقی زون کی منظوری کو مینوفیکچرنگ اور برآمدی سرگرمی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔
بورڈ نے نجی شعبے کی جانب سے قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز کو بجلی، گیس اور دیگر متعلقہ خدمات فراہم کرنے کے لیے اہلیت کے معیار کی بھی منظوری دی۔ یوٹیلٹیز کی بروقت دستیابی پاکستان کے صنعتی منصوبوں میں ایک مستقل مسئلہ رہی ہے، اور متعدد سرمایہ کاروں نے ماضی میں کنکشن، لاگت اور فراہمی کے تسلسل کو منصوبوں کی تکمیل کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
کراچی انڈسٹریل پارک کی منظوری کے بعد اگلا اہم مرحلہ عملی نفاذ، بنیادی ڈھانچے کی تیاری اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے زمین اور سہولیات کی دستیابی ہوگا۔ صرف زون کا قانونی درجہ صنعتی پیداوار یا روزگار میں فوری اضافے کی ضمانت نہیں دیتا؛ اصل نتائج کا انحصار سرمایہ کاری کے فیصلوں، کاروباری لاگت، توانائی کی دستیابی اور ریگولیٹری عمل کی رفتار پر ہوگا۔
حکومت خصوصی اقتصادی زونز کو صنعتی پالیسی، برآمدات اور نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ کراچی میں منظور ہونے والا یہ منصوبہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ آنے والے مرحلے میں زون میں آنے والی صنعتوں کی نوعیت، متوقع سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدی صلاحیت سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار سامنے آنے پر اس کے معاشی اثرات کا زیادہ درست اندازہ ممکن ہوگا۔
