کراچی: لانڈھی کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں 7 ستمبر کو ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کئی گھنٹے جاری رہی، جس کے دوران عمارت کا ایک حصہ گر گیا اور آگ ایک ملحقہ فیکٹری تک پھیل گئی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں اور آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر متاثرہ حصوں کی نگرانی اور سرچ آپریشن بھی جاری رکھا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ادارے کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم روانہ کی گئی، جس کے ساتھ فائر بریگیڈ کی گاڑی اور ایمبولینس بھی موقع پر بھیجی گئی۔ بعد میں آگ کی شدت کے باعث فیکٹری کی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ حکام کے مطابق شعلے ساتھ موجود ایک اور فیکٹری تک بھی پہنچے، جس سے آپریشن کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا۔
ابتدائی اطلاعات میں کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ صورت حال امدادی حکام کی جانب سے موقع پر دی گئی معلومات پر مبنی ہے اور آگ بجھانے کا عمل مکمل ہونے اور عمارتوں کی حتمی جانچ کے بعد نقصانات کا مکمل تخمینہ سامنے آ سکتا ہے۔ ایڈھی فاؤنڈیشن نے بھی اپنی ایمبولینسیں اور رضاکار جائے وقوع پر بھیجے تاکہ ضرورت پڑنے پر طبی امداد اور منتقلی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
لانڈھی کا ایکسپورٹ پروسیسنگ زون صنعتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، جہاں ایک جگہ آگ لگنے کی صورت میں قریبی یونٹس، ذخیرہ شدہ مواد اور صنعتی ڈھانچے کی وجہ سے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے فائر فائٹنگ کے ساتھ بجلی، ایندھن یا دیگر ممکنہ خطرناک ذرائع کو الگ کرنا بھی ایسے آپریشنز میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی وجہ یا مالی نقصان کی مصدقہ مقدار بیان نہیں کی گئی۔
واقعے کے بعد بنیادی توجہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے اور عمارت کے کمزور حصوں کے باعث ریسکیو اہلکاروں اور فیکٹری کارکنوں کو لاحق خطرات کم کرنے پر رہی۔ عمارت کا حصہ گرنے کے بعد ملبے کے قریب کام کرنے والی ٹیموں کے لیے حفاظتی اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی، کیونکہ شدید حرارت اور ساختی کمزوری ثانوی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
حکام کی جانب سے اگر بعد میں فیکٹری کے اندر موجود افراد، آگ کی وجہ، حفاظتی انتظامات یا مالی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جاتی ہیں تو واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہی ہے کہ آگ سے عمارت کا حصہ گرا، آگ ملحقہ فیکٹری تک پہنچی اور ریسکیو آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا، جبکہ رپورٹ کے وقت تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔




