کراچی: شہر میں رواں مون سون کے دوران بارش معمول سے انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے اور ایکسپریس اردو کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 29 سال بعد ایسی صورتِ حال سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں 1997 کا حوالہ دیا گیا، جب النینو کے فعال ہونے کے دوران کراچی مون سون کی نمایاں بارشوں سے محروم رہا تھا۔
محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگست کے باقی دنوں میں کراچی کے لیے کسی بارش برسانے والے نظام کی توقع نہیں، جبکہ ستمبر میں بھی مون سون بارش کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ یہ موسمی پیش گوئی موجودہ ماحولیاتی حالات پر مبنی ہے اور آئندہ سمندری یا فضائی تبدیلی کی صورت میں محکمہ موسمیات نئی اطلاع جاری کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں بارش کی کمی کو سمندر میں النینو کی سرگرمی سے جوڑا گیا ہے۔ شہر میں مون سون بارش کا ایک دوسرا اہم ذریعہ سمندر میں بننے والا کم دباؤ ہوتا ہے، جو موافق رخ اختیار کرے تو بارش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم بحیرہ عرب میں فی الحال ایسی کوئی سرگرمی مشاہدے میں نہیں آرہی جو کراچی کے لیے بارش کا واضح نظام بنائے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون کا عمومی دورانیہ 15 جولائی سے 15 ستمبر تک رہتا ہے۔ بالائی اور شمالی علاقوں میں مون سون نظاموں کی آمد بعض اوقات 30 ستمبر تک جاری رہ سکتی ہے، مگر ہر خطے میں بارش کی مقدار اور وقت یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے شمالی علاقوں میں نظام کی موجودگی لازماً کراچی میں بارش کی ضمانت نہیں بنتی۔
کم بارش کا مطلب شہری سطح پر پانی، درجہ حرارت، نمی اور فضائی کیفیت سے متعلق مختلف اثرات ہوسکتے ہیں، لیکن براہ راست دیکھی گئی رپورٹ نے کسی مخصوص آبی ذخیرے، فصل، صحت یا درجہ حرارت کے نقصان کا عددی تخمینہ پیش نہیں کیا۔ اردو ہیڈلائنز نے اسی وجہ سے ایسی کوئی غیر مذکور پیش گوئی یا نقصان شامل نہیں کیا۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی رپورٹ اور اس میں نقل کیے گئے محکمہ موسمیات کے بیان پر مبنی ہے۔ 1997 سے تقابل، اگست اور ستمبر کے امکانات، النینو اور بحیرہ عرب میں کم دباؤ کی عدم موجودگی کو ماخذ کی حدود میں بیان کیا گیا ہے؛ آئندہ تبدیلی کے لیے تازہ سرکاری موسمی بلیٹن دیکھنا ضروری ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




