لاہور: ضلع لیہ میں دریائے سندھ کے مسلسل کٹاؤ کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور املاک کے نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور ہزاروں رہائش گاہیں بہہ گئیں۔ یہ اعداد ڈان کی زمینی رپورٹ سے منسوب ہیں اور کسی حتمی سرکاری سروے کے مکمل نتائج کے طور پر پیش نہیں کیے جا رہے۔

رپورٹ کے مطابق سماڑہ نشیب اور اس کے گردونواح سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دریا تیزی سے کنارہ کاٹ کر آبادیوں کی جانب رخ بدل رہا ہے۔ رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پانی لالہ کریک میں داخل ہوا تو مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ کم از کم دس یونین کونسلیں اور متعدد بستیاں متاثرہ دائرے میں بتائی گئی ہیں، جبکہ کئی خاندان خیموں یا کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے معاون خصوصی شعیب مرزا کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور امدادی و ریسکیو کارروائیوں کی نگرانی کی ہدایت کی۔ ڈان کے مطابق شعیب مرزا نے موضع سماڑہ نشیب کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی اور نقصان کا جائزہ لیا۔ آبپاشی محکمے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کو بھی علاقے میں پہنچنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ضروری مشینری متحرک کی گئی۔

متاثرہ لوگوں اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، خوراک اور ضروری اشیا مہیا کرنے اور خشک راشن تقسیم کرنے کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ نقصان کے تخمینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی جو زرعی زمین، گھروں اور دوسری املاک کے نقصان کا جائزہ لے کر وزیراعلیٰ کو رپورٹ دے گی۔ لیہ کے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو خوراک، راشن، طبی سہولت اور نقل و حمل یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔

دریائی کٹاؤ کا یہ واقعہ سیلابی پانی سے جڑا ہوا ہے، مگر ہر متاثرہ مقام پر پانی کی سطح، بہاؤ اور مستقل نقل مکانی کی حتمی تفصیل ابھی دستیاب رپورٹ میں یکساں نہیں۔ اسی لیے متاثرین اور نقصانات کے ابتدائی اعداد کو واضح نسبت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ فوری ضرورت محفوظ منتقلی، خوراک، علاج اور دریا کے رخ کی مسلسل نگرانی ہے؛ طویل مدتی بحالی اور معاوضے کا درست حجم خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک