پنجاب حکومت نے راولپنڈی شہر اور کنٹونمنٹ کے رہائشیوں کو دادوچہ ڈیم سے صاف پانی فراہم کرنے کے لیے 36 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ دی نیشن کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق سطحی پانی کا ٹریٹمنٹ پلانٹ، ترسیلی لائن اور تقسیم کا نیٹ ورک مکمل ہونے پر یومیہ 3 کروڑ 50 لاکھ گیلن پانی موجودہ نظام میں شامل ہوگا۔

راولپنڈی کمشنر کے مطابق اضافی پانی شہر اور کنٹونمنٹ کی پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا۔ دادوچہ ڈیم کی تعمیر پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے تحت 92 فیصد مکمل بتائی گئی ہے۔ ڈیم مکمل ہونے کے بعد واسا 28 کلومیٹر ترسیلی لائن، ٹریٹمنٹ پلانٹ اور شہری تقسیم نیٹ ورک پر کام شروع کرے گا۔

منصوبے کی تکمیل کا ہدف دسمبر 2029 رکھا گیا ہے۔ پنجاب حکومت راولپنڈی شہر والے حصے کے لیے 18 ارب روپے فراہم کرے گی، جبکہ کنٹونمنٹ کے لیے باقی 18 ارب روپے کی مالی ذمہ داری کا فیصلہ پنجاب کابینہ کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم وفاقی یا صوبائی حکومت میں سے کوئی ایک فراہم کر سکتی ہے؛ حتمی بندوبست ابھی طے نہیں بتایا گیا۔

36 ارب روپے کی منظوری اور 2029 کا ہدف منصوبے کا انتظامی و مالی خاکہ ہیں۔ پانی کی حقیقی فراہمی ڈیم، ٹریٹمنٹ صلاحیت، ترسیلی لائن، بجلی، تقسیم نیٹ ورک اور تعمیراتی رفتار کی تکمیل پر منحصر ہوگی۔ خبر میں ٹھیکوں، ماحولیاتی منظوریوں، زمین کے حصول یا مرحلہ وار فراہمی کا مکمل شیڈول موجود نہیں۔

راولپنڈی میں زیرِ زمین پانی اور بڑھتی آبادی کے دباؤ کے تناظر میں سطحی پانی کا نیا ذریعہ اہم ہو سکتا ہے، مگر اعلان کو فوری فراہمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ شہریوں کے لیے قابلِ پیمائش نتیجہ تب سامنے آئے گا جب علاج شدہ پانی نیٹ ورک میں شامل ہو اور علاقوں تک باقاعدہ پہنچے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت منصوبے کی منظوری، مالی تقسیم، ڈیم کی رپورٹ شدہ 92 فیصد تکمیل اور دسمبر 2029 کا ہدف ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک