وفاقی حکومت نے لاہور میں ملک کا سب سے بڑا ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنے کے لیے 56 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی ایکنک نے 21 اگست کے اجلاس میں بابو صابو کے مقام پر منصوبے کی منظوری دی۔ بولی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلے چھ ماہ کے اندر منصوبہ شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ مالی و انتظامی منظوری ہے؛ تعمیر مکمل ہونے اور ماحولیاتی نتائج حاصل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔
منصوبہ لاہور واسا کے منظور شدہ ماسٹر پلان سے منسلک ہے اور شہر میں بڑے پیمانے پر گندے پانی کی صفائی کی پہلی سہولت قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی فنڈنگ کا تقریباً 24 فیصد پنجاب کے ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکمے سے جبکہ 74 فیصد فرانسیسی سرکاری ترقیاتی ادارے اے ایف ڈی سے آئے گا۔ باقی شرح یا تفصیلی مالی شرائط رپورٹ میں واضح نہیں، اس لیے خبر میں قرض، گرانٹ یا ادائیگیوں کی اضافی تفصیل فرض نہیں کی جا رہی۔
پہلے مرحلے میں مرکزی لاہور، کینٹ ڈرین، ملتان روڈ اور گلشن راوی کے پمپنگ اسٹیشنوں سے آنے والے سیوریج کو صاف کر کے دریائے راوی میں خارج کرنا شامل ہوگا۔ اس سے غیر علاج شدہ پانی کے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ منصوبے کے شیڈول میں 12 ماہ کی قبل از تعمیر تیاری، 42 ماہ کی تعمیر اور 36 ماہ کا آپریشن اور مینٹیننس مرحلہ بیان کیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں صاف کیے گئے پانی اور حاصل شدہ مواد کے دوبارہ استعمال کو وسیع کرنے کا منصوبہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپوسٹ، ری فیوز ڈرائیوڈ فیول، بایوچار، کھاد کی گولیاں، اینٹیں اور فاسفورس کی بازیافت جیسے امکانات شامل ہیں۔ تیسرے مرحلے میں اضافی ذخیرہ ختم کر کے وسائل کی بازیافت کے پارک کے ذریعے سرکلر اکانومی ماڈل اپنانے کا ہدف ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں مرحلہ وار منصوبہ بندی کا حصہ ہیں اور ان کی عملی مقدار ابھی ثابت نہیں۔
لاہور کے بڑھتے شہری پھیلاؤ، آلودہ نالوں اور راوی کی ماحولیاتی حالت کے تناظر میں یہ منصوبہ اہم ہے، مگر کامیابی صرف فنڈ کی منظوری سے نہیں ماپی جا سکتی۔ شفاف بولی، زمین اور ماحولیاتی منظوری، تعمیراتی معیار، بجلی کی مستقل فراہمی اور طویل مدتی آپریشن فیصلہ کن ہوں گے۔ اگلے قابل جانچ مراحل ٹینڈر کا اجرا، ٹھیکے کی تفصیل، تعمیر کا آغاز اور پانی کے معیار کے باقاعدہ نتائج ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




