گلگت: سپانٹک چوٹی پر پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت واپس لانے کا زمینی مشن شدید برف باری، بارش اور تیز ہواؤں کے باعث عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ڈان اور ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹس کے مطابق بلند مقام پورٹرز کی ٹیم کیمپ تھری کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر خطرناک موسم کے باعث اسے کیمپ ٹو کی طرف واپس آنا پڑا۔
ڈان کے مطابق 34 سالہ ڈاکٹر اسما 7,027 میٹر بلند سپانٹک، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، کی چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی پر بلندی کی بیماری کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔ ان کی میت کیمپ تھری کے قریب بلند مقام پر موجود ہے۔ بلتستان ڈویژن کے کمشنر کمال خان نے بتایا تھا کہ چھ بلند مقام پورٹرز پر مشتمل ٹیم کیمپ ٹو سے آگے بڑھی، لیکن شدید موسم میں ٹیم کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے اسے واپس بیس کیمپ کی سمت آنا پڑا۔
ایکسپریس اردو کی بعد کی رپورٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے بیان کے حوالے سے کہا گیا کہ ٹیم تقریباً کیمپ تھری تک پہنچ گئی تھی مگر خراب موسم کے باعث کیمپ ٹو واپس پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان حکومت اور ایف سی این اے کے درمیان رابطہ قائم ہے، وزیراعظم شہباز شریف کو صورت حال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے اور میت کی واپسی کے لیے متبادل انتظامات بھی زیرِ غور ہیں۔
تارڑ کے مطابق میت کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس لانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم ڈان کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ہیلی کاپٹر اتنی بلندی سے براہ راست میت نہیں اٹھا سکتا؛ زمینی ٹیم کو پہلے میت بیس کیمپ تک منتقل کرنا ہوگا، جس کے بعد پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر انسانی بنیادوں پر اسے اسکردو منتقل کر سکتا ہے۔ اس لیے اجازت کا مطلب فوری براہ راست فضائی بازیابی نہیں بلکہ بیس کیمپ سے اگلے مرحلے کی سہولت ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق بازیابی مہم میں کوہ پیما ٹیموں، مہم چلانے والی کمپنی، محکمہ سیاحت، مقامی حکومت اور متعلقہ اداروں کا رابطہ شامل ہے۔ ڈاکٹر اسما کی موت کے حالات اور مہم کے انتظامات کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کی مکمل تحقیقات ٹیموں کی محفوظ واپسی اور میت کی بازیابی کے بعد متوقع ہے۔ کسی فریق کی غفلت ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔
مشن کا اگلا مرحلہ موسم، برف، ہوا اور زمینی راستے کی حفاظت پر منحصر ہے۔ موجودہ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ ٹیم نے جان کے خطرے کے باعث آگے بڑھنا روک دیا، سرکاری رابطہ جاری ہے اور بیس کیمپ سے فضائی منتقلی کی اجازت دی گئی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




