اسلام آباد: توانائی اور صنعتی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بجلی اور گیس کی منڈیوں میں مسابقت بڑھائی جائے، صنعتی نرخوں کی ساخت درست کی جائے اور زیادہ اخراج والے شعبوں کے لیے واضح کم کاربن روڈمیپ بنایا جائے۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ سفارشات سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک ویبینار میں سامنے آئیں۔
گفتگو میں سیمنٹ، اسٹیل اور ٹیکسٹائل کو خاص طور پر اہم قرار دیا گیا، کیونکہ ان شعبوں کی توانائی طلب بڑی ہے اور عالمی تجارت میں کاربن سے متعلق تقاضے سخت ہو رہے ہیں۔ شرکا کے مطابق توانائی کی بلند یا غیر یقینی لاگت برآمدی مسابقت اور نئی سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہے، جبکہ صاف ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے قابل اعتماد بجلی، مالی وسائل اور مناسب بنیادی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے قومی طور پر طے شدہ اہداف کے تحت 2030 تک صنعتی اخراج میں 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن کمی کے ہدف کا ذکر کیا گیا۔ یہ مستقبل کا پالیسی ہدف ہے، حاصل شدہ کمی نہیں۔ ہدف تک پیش رفت جانچنے کے لیے بنیادی سال، شعبہ وار پیمائش، آزاد تصدیق اور ہر اقدام سے ہونے والی حقیقی کمی کا شفاف حساب ضروری ہوگا۔
ٹیکسٹائل شعبے میں 400 سے زیادہ کوجنریشن پلانٹس کا حوالہ بھی دیا گیا۔ کوجنریشن میں ایک ہی ایندھن سے بجلی اور مفید حرارت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے بعض حالات میں مجموعی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر پلانٹ کی ٹیکنالوجی، ایندھن اور آپریشن مختلف ہوتا ہے، اس لیے تعداد خود بخود اخراج میں کمی یا مکمل تعمیل ثابت نہیں کرتی۔
شرکا نے سی ٹی بی سی ایم، صنعتی ٹیرف، گرڈ تک رسائی، صاف توانائی کی فنانسنگ اور مناسب ترسیلی ڈھانچے کو باہم مربوط مسائل قرار دیا۔ مسابقتی منڈی کے لیے واضح قواعد اور قابل عمل معاہدے ضروری ہیں، جبکہ کاربن کمی کے منصوبوں کو قابل برداشت سرمایہ، تکنیکی معاونت اور پیمائش کے نظام کی ضرورت ہوگی۔ یہ گفتگو سفارشات پر مشتمل ہے، نافذ شدہ سرکاری حکم نہیں۔
یہ رپورٹ دی نیشن کی ویبینار کوریج کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ 2030 کا 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہدف اور 400 سے زیادہ پلانٹس کے حوالے اسی خبر کی حدود میں رکھے گئے ہیں، جبکہ مجوزہ اصلاحات کو ماہرین کی سفارشات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




