اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، بعض انڈر پاس اور گھروں میں پانی داخل ہوا اور نالہ لئی کی سطح بلند ہونے پر راولپنڈی میں رین ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ دی نیشن کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 16 فٹ اور گوالمنڈی پر 10 فٹ تک ریکارڈ کی گئی۔
اسلام آباد کے جی 6 میں کئی انڈر پاس بارش کے پانی سے متاثر ہوئے، جبکہ جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوئی۔ راولپنڈی انتظامیہ نے نشیبی اور خطرے والے علاقوں سے جمع پانی نکالنے کے لیے بھاری مشینری تعینات کی۔ رپورٹ میں کسی مصدقہ جانی نقصان یا مکمل مالی نقصان کا عدد نہیں دیا گیا۔
کُنڈیاں میں بھی شدید بارش اور نشیبی آبادیوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاع دی گئی۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آج اور کل مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ مری، گلیات اور دوسرے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکان کے باعث شہریوں اور مسافروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
نالہ لئی کی سطح مقام اور وقت کے ساتھ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے رپورٹ شدہ 16 اور 10 فٹ کو مستقل سطح نہیں سمجھنا چاہیے۔ شہریوں کے لیے تازہ ترین انتباہ، انخلا یا سڑک بندش کی اطلاع ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے موجودہ اعلانات سے لینی ضروری ہے، خصوصاً نالوں، انڈر پاسز اور ڈھلوانی راستوں کے قریب۔
رین ایمرجنسی کا اعلان انتظامی تیاری اور مشینری کی تعیناتی ظاہر کرتا ہے، مگر اس سے خطرہ ختم نہیں ہوتا۔ موجودہ خبر بارش، پانی جمع ہونے، نالہ لئی کی رپورٹ شدہ سطح اور احتیاطی اقدامات کی تصدیق کرتی ہے۔ اگر پانی مزید بڑھے، انخلا کا حکم آئے یا نقصانات کی سرکاری گنتی جاری ہو تو وہ الگ اور مادی پیش رفت ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




