کھٹمنڈو: نیپال اور چین کی سرحد کے قریب اچانک آنے والے سیلاب سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ سیاحتی اداروں کی ابتدائی فہرست میں 384 مسافروں کو لاپتہ بتایا گیا ہے۔ ڈان نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نیپالی پولیس کو بدھ تک آٹھ لاشیں مل چکی تھیں اور متاثرہ پہاڑی علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق سیاحت اور سفر کی کمپنیوں سے موصول ابتدائی ریکارڈ میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی مسافر شامل ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ حکام ان افراد کے موجودہ مقام کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ ملنے والی آٹھ لاشوں کا تعلق اسی 384 افراد کی فہرست سے ہے یا نہیں، اس لیے لاپتہ افراد اور ہلاکتوں کو جمع کرکے کوئی بڑا غیر مصدقہ عدد بنانا درست نہیں ہوگا۔

سیلاب نے سیابروبیسی اور گرد و نواح کو متاثر کیا۔ یہ علاقہ لینگ ٹانگ ٹریک کا نقطۂ آغاز ہے اور کیلاش مانسرور جانے والے مسافر بھی اس راستے کو استعمال کرتے ہیں۔ پولیس کی جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں پہاڑی دریاؤں کا گدلا پانی گھروں اور گاڑیوں کو بہاتا دکھائی دیا۔ مقامی حکام نے دریا کنارے رہنے والوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

نیپالی فوج نے ہیلی کاپٹر اور آفات سے نمٹنے والے اہلکار تعینات کیے ہیں۔ نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق تقریباً 430 میگاواٹ پیداواری گنجائش، جس میں پن بجلی اور شمسی تنصیبات شامل ہیں، متاثر ہوئی اور بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم میں خلل آیا۔ متعدد شاہراہیں بھی بند کردی گئیں۔

کٹھمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کے ریموٹ سینسنگ ماہر سارتھک شریستھا نے ابتدائی جائزے کی بنیاد پر کہا کہ ممکنہ طور پر نیپال میں چٹان اور برفانی تودہ گرنے سے لہندے دریا رکا اور اس کے بعد سلسلہ وار سیلاب آیا۔ یہ ابتدائی سائنسی تشخیص ہے، مکمل حتمی تحقیق نہیں۔ ادارے کے ایک اور ماہر نے خبردار کیا کہ سرحدی دریا کے بالائی حصے میں رکاوٹ باقی ہونے کی وجہ سے دوسرا سیلاب بھی آسکتا ہے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے تبت کی جانب گیئرونگ بندرگاہ پر بڑے جانی نقصان اور لاپتہ افراد کی اطلاع دی، مگر فوری طور پر تعداد جاری نہیں کی گئی۔ چینی صدر شی جن پنگ نے تلاش، بچاؤ اور زخمیوں کے علاج کے لیے بھرپور کارروائی کی ہدایت کی۔ تبت کے ٹریفک حکام نے متاثرہ سڑکوں کو مٹی کے تودوں کے خطرے کے باعث غیر محفوظ قرار دیا۔

ہمالیائی خطے میں جون سے ستمبر کی مون سون بارشیں سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کا سبب بنتی ہیں۔ اس واقعے میں اموات، لاپتہ مسافروں اور تبت کے نقصان کے اعداد ابھی بدل سکتے ہیں؛ اس لیے خبر کو پولیس، سیاحتی بورڈ اور متعلقہ اداروں کے واضح انتساب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک