وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں ایک بڑے عوامی سہولت مرکز کے قیام کا اعلان کیا ہے جہاں شہریوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اسلحہ لائسنس، مختلف این او سیز اور وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں سے متعلق دیگر خدمات ایک ہی مقام پر فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق وزیر داخلہ نے یہ اعلان 29 ستمبر کو کراچی میں وزارت داخلہ کے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع دفتر کے دورے کے موقع پر کیا۔
وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق مجوزہ مرکز میں وزارت کے ماتحت مختلف محکموں اور اداروں کے کاؤنٹر قائم کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو الگ الگ دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے ایک جگہ متعدد سرکاری خدمات تک رسائی مل سکے۔ محسن نقوی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مرکز کا ماسٹر پلان 10 روز کے اندر تیار کرکے پیش کیا جائے اور منصوبہ بناتے وقت ضروری انتظامی، تکنیکی اور عوامی سہولت کی ضروریات کو شامل کیا جائے۔
اعلان کے مطابق مرکز میں پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ سے متعلق سہولیات کے ساتھ اسلحہ لائسنس، مختلف نوعیت کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹس اور دیگر متعلقہ خدمات بھی شامل کرنے کا ارادہ ہے۔ تاہم مرکز کے حتمی مقام، لاگت، تعمیراتی مدت، روزانہ گنجائش اور افتتاح کی تاریخ سے متعلق مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ اس مرحلے پر حکومت نے ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد منصوبے کا عملی خاکہ مزید واضح ہوگا۔
اسی دورے کے دوران وزیر داخلہ نے کراچی پورٹ پر پہنچنے والی 21 نئی ریسکیو اور فائر فائٹنگ گاڑیوں کا بھی معائنہ کیا جو اسلام آباد ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے لیے منگوائی گئی ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ گاڑیاں چین سے پہنچی ہیں اور انہیں پانچ روز کے اندر کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ بیان میں اس کھیپ کو اسلام آباد کی ریسکیو صلاحیت میں 2009 کے بعد بڑی توسیع قرار دیا گیا۔
وزارت کے مطابق نئی گاڑیوں میں چار ایریل فائر ٹرکس، چھ فائر ٹاورز اور پانچ فائر ٹینڈرز شامل ہیں، جبکہ بعض آلات 256 فٹ تک بلندی پر ریسکیو یا فائر فائٹنگ کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نئی گاڑیوں کو اسلام آباد کے چھ اسٹیشنز پر چوبیس گھنٹے دستیابی کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بتایا گیا ہے۔
کراچی کے مجوزہ سہولت مرکز کا بنیادی مقصد وفاقی خدمات کی فراہمی کو ایک جگہ مجتمع کرنا ہے۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ماسٹر پلان کے بعد متعلقہ محکموں کے نظام، ڈیٹا، قطاروں کے انتظام، ادائیگی اور شناختی تصدیق کے عمل کو کس حد تک مؤثر انداز میں یکجا کیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے آئندہ مرحلے میں جگہ، بجٹ اور ٹائم لائن کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
