کراچی: وفاقی حکومت نے کراچی میں زرعی مصنوعات کی قرنطینہ جانچ اور پیسٹی سائیڈ باقیات کے تجزیے سے متعلق لیبارٹری سہولتوں کی اپ گریڈیشن مکمل کرلی ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ماتحت پلانٹ پروٹیکشن کے نظام میں کی گئی اس بہتری کا مقصد درآمدی اور برآمدی زرعی اشیا کی جانچ کو زیادہ مؤثر بنانا اور بین الاقوامی منڈیوں کے معیار سے مطابقت بڑھانا ہے۔
اپ گریڈیشن کے تحت لیبارٹریوں میں جدید تجزیاتی آلات اور ٹیسٹنگ سہولتیں شامل کی گئی ہیں تاکہ پودوں، بیجوں، پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی مصنوعات میں بیماریوں، کیڑوں اور کیمیائی باقیات کی زیادہ قابل اعتماد جانچ کی جاسکے۔ زرعی تجارت میں ایسی لیبارٹری رپورٹس اہم ہوتی ہیں کیونکہ برآمدی ممالک اکثر فوڈ سیفٹی، فائیٹو سینیٹری اور زیادہ سے زیادہ قابل قبول کیمیائی باقیات کے معیار کی پابندی کا تقاضا کرتے ہیں۔
کراچی پاکستان کی سمندری تجارت کا مرکزی راستہ ہے، اس لیے بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی زرعی کھیپوں کی بروقت جانچ درآمدی بائیوسکیورٹی اور برآمدی کلیئرنس دونوں کے لیے اہم ہے۔ بہتر ٹیسٹنگ صلاحیت سے نمونوں کے تجزیے کا معیار بلند ہونے اور بیرون ملک پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے معیار سے متعلق رکاوٹیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے حقیقی اثرات لیبارٹریوں کے مسلسل آپریشن، تربیت یافتہ عملے اور بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن کے تقاضوں کی تکمیل پر منحصر ہوں گے۔
حکومت زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے معیار، سرٹیفکیشن اور قرنطینہ نظام کو مضبوط بنانے کو اہم قرار دیتی رہی ہے۔ تازہ اپ گریڈیشن اسی سلسلے کا عملی قدم ہے، لیکن اسے کسی مخصوص برآمدی منڈی کی خودکار منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہر ملک اپنے درآمدی قواعد اور فائیٹو سینیٹری شرائط کے مطابق پاکستانی مصنوعات کا جائزہ لیتا ہے، اس لیے جدید لیبارٹری انفراسٹرکچر کے ساتھ ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور مستقل معیار برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

