کراچی: یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم مسجد کے قریب ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے زیر تعمیر پل کی دھاتی شٹرنگ اور اسکیفولڈنگ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے کی اطلاع صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے ملی اور امدادی ٹیم چند منٹ میں موقع پر پہنچ گئی۔ متوفی کی شناخت فوری طور پر یقینی نہیں بنائی جا سکی اور واقعے کے حالات کے بارے میں مختلف ابتدائی بیانات سامنے آئے ہیں۔
ریسکیو حکام نے ابتدا میں متوفی کے لباس اور اس کے پاس موجود سیٹی کی بنیاد پر اسے سکیورٹی گارڈ قرار دیا، تاہم بعد میں کہا کہ شناخت کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔ منصوبے کی عملدرآمدی ایجنسی ٹرانس کراچی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ متوفی مقام سے مواد نکالنے کی کوشش کر رہا تھا جب بھاری لوہے کا پائپ سرکا اور ڈھانچہ گر گیا۔ یہ دعویٰ تفتیشی نتیجہ نہیں ہے اور حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے حادثے کی حتمی وجہ اور ذمہ داری ابھی طے نہیں ہوئی۔
ریڈ لائن بی آر ٹی کا یہ حصہ پہلے ہی تعمیراتی تاخیر کا شکار رہا ہے۔ ٹرانس کراچی کے مطابق متاثرہ حصے سمیت متعدد مقامات پر کام اپریل 2026 میں سابق کنٹریکٹ منسوخ ہونے کے بعد معطل رہا اور نیا ٹینڈر 8 اکتوبر کو کھولا جانا ہے۔ منصوبہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل ہے اور ملیر ہالٹ سے نمائش تک یونیورسٹی روڈ کے راستے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 79 ارب روپے تھا اور تعمیر 2022 میں شروع ہوئی، مگر تکمیل کی مدت کئی بار آگے بڑھائی جا چکی ہے۔
حادثے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں نے حفاظتی انتظامات اور منصوبے کی نگرانی پر سوالات اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان جماعتوں کے الزامات سیاسی بیانات ہیں؛ کسی قسم کی غفلت یا قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات سے ہوگا۔ فوری طور پر تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ زیر تعمیر ڈھانچے کے گرنے سے ایک شخص جان سے گیا اور حکام حادثے کے اسباب کی چھان بین کر رہے ہیں۔

