کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس چوکی پر حملے کے نتیجے میں سات اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ گمبٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع چوکی پر کیا گیا، جسے صوبائی وزیر اطلاعات کے دفتر نے شادی پور چیک پوسٹ کے طور پر شناخت کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے چوکی کی طرف دستی بم پھینکا جس سے اہلکار زخمی ہوئے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس نے حملہ پسپا کر دیا اور زخمی اہلکار محفوظ ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پولیس ذرائع کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔
حملے کی ذمہ داری سے متعلق دستیاب رپورٹ میں کسی گروہ کی تصدیق شدہ شناخت نہیں دی گئی۔ پولیس نے حملہ آوروں کو دہشت گرد قرار دیا ہے، تاہم واقعے میں ملوث افراد، ان کی تعداد اور ممکنہ تنظیمی وابستگی کے بارے میں مزید تحقیقات کی تفصیل فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ذمہ داری سے متعلق کسی غیر مصدقہ دعوے کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور سکیورٹی صورتحال پر وفاقی اور صوبائی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ کوہاٹ حملے میں ابتدائی طور پر کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی اور پولیس کے مطابق تمام سات زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

