پشاور: خیبر پختونخوا کے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک AI اور ڈیجیٹل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق سات ارکان پر مشتمل یہ ادارہ تعلیمی انتظامیہ میں ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے تکنیکی فریم ورک، رہنما اصول اور عملی تجاویز تیار کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق نئے ادارے کا ایک بنیادی مقصد محکمہ تعلیم میں ایسے دستی طریقہ کار کی نشاندہی کرنا ہے جنہیں ڈیجیٹل نظام سے تبدیل یا آسان کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ جدید ایپلی کیشنز کی تیاری، ڈیٹا کے بہتر استعمال اور خدمات کی فراہمی میں شفافیت بڑھانے کے لیے سفارشات بھی تیار کی جائیں گی۔ محکمہ اسے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا AI اور ڈیجیٹل انسٹی ٹیوٹ قرار دے رہا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ قومی سطح پر تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

خیبر پختونخوا کا محکمہ تعلیم پہلے ہی مختلف ڈیجیٹل نظام استعمال کر رہا ہے، جن میں تعلیمی انتظامی معلومات، انسانی وسائل، پنشن اور حاضری سے متعلق آن لائن پلیٹ فارم شامل ہیں۔ حالیہ مہینوں میں صوبے نے ڈیجیٹل تعلیم کے مزید منصوبے بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں ورچوئل لرننگ سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ نئے انسٹی ٹیوٹ کا کام انہی نظاموں کے درمیان بہتر تکنیکی ہم آہنگی پیدا کرنا اور مستقبل کی ڈیجیٹل ضروریات کے لیے پالیسی رہنمائی فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

AI کے استعمال کے ساتھ ڈیٹا سکیورٹی، رازداری، الگورتھمک شفافیت اور انسانی نگرانی جیسے سوالات بھی اہم ہوں گے۔ سرکاری تعلیمی نظام میں کسی بھی خودکار یا ڈیٹا پر مبنی نظام کی کامیابی کا انحصار واضح قواعد، محفوظ انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ عملے اور اس بات پر ہوگا کہ ٹیکنالوجی اساتذہ، طلبہ اور انتظامی اہلکاروں کے لیے واقعی قابل استعمال ہو۔

فی الحال دستیاب معلومات میں ادارے کے مکمل بجٹ، مستقل عملے کی ساخت، نفاذ کے مرحلہ وار شیڈول یا مخصوص AI مصنوعات کی تفصیل شامل نہیں۔ اس لیے اس اقدام کی عملی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوگی جب محکمہ اپنی پہلی تکنیکی سفارشات، ایپلی کیشنز یا پائلٹ منصوبے جاری کرے گا۔

صوبائی حکومت کے لیے یہ ادارہ ایک ایسے وقت میں قائم کیا گیا ہے جب سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے اور مصنوعی ذہانت کو انتظامی فیصلوں میں شامل کرنے کا رجحان پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر مقررہ اہداف کے مطابق کام ہوا تو یہ ادارہ محکمہ تعلیم کے اندر کاغذی کارروائی کم کرنے، خدمات کی نگرانی بہتر بنانے اور ڈیجیٹل نظاموں کے لیے مشترکہ معیار بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔