پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں صوبے کے 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے متعلق مالی معاملات، ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ضروریات اور پن بجلی کے خالص منافع کے واجبات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین ارباب محمد عثمان خان نے کی۔

رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی کے سوال پر محکمہ خزانہ کے اسپیشل سیکریٹری نے واپڈا کی فراہم کردہ بجلی پیداوار کے اعداد کی بنیاد پر نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا حساب پیش کیا۔ رپورٹ میں مالی سال 2015-16 سے 2026-27 تک کے واجبات کا احاطہ کیا گیا اور ستمبر 2025 تک پانچ فیصد انڈیکسیشن کو بھی حساب میں شامل کیا گیا۔

اجلاس میں ’11واں قومی مالیاتی کمیشن: خیبرپختونخوا کے مالی مسائل‘ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی پیش کی گئی۔ اس میں صوبے کے مطابق موجودہ مالی تقسیم سے متعلق آئینی سوالات، سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد پیدا ہونے والی مالی ضروریات، صوبائی معیشت کو درپیش طویل مدتی خطرات اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو موجودہ حالات اور آئینی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر بحث کی گئی۔

این ایف سی پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محصولات کی تقسیم کا بنیادی آئینی طریقہ کار ہے۔ خیبرپختونخوا کئی برس سے ضم شدہ اضلاع کے اضافی انتظامی اور ترقیاتی اخراجات، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی ضروریات اور پن بجلی کے خالص منافع کو اپنی مالی پوزیشن کے اہم اجزا کے طور پر اٹھاتا رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی میں پیش کی گئی بریفنگ انہی مالی دعوؤں اور حسابات کے پارلیمانی جائزے کا حصہ ہے۔

کمیٹی میں پیش کردہ حساب اور صوبائی دستاویز خود کسی نئے این ایف سی ایوارڈ یا واجبات کی حتمی ادائیگی کا فیصلہ نہیں ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر مالی تقسیم کے حتمی فیصلے متعلقہ آئینی و حکومتی عمل کے ذریعے ہوتے ہیں۔ اجلاس کا فوری نتیجہ یہ تھا کہ ارکان کو صوبائی مؤقف، حسابات اور آئندہ این ایف سی مذاکرات سے جڑے اہم مالی نکات سے آگاہ کیا گیا۔