خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس کے انتظامی ڈھانچے اور انسپکٹر جنرل پولیس کے اختیارات سے متعلق مجوزہ قانونی ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ مسودے کے مطابق پولیس سربراہ کے بعض انتظامی فیصلوں کے نفاذ کے لیے صوبائی حکومت کی منظوری ضروری ہوگی۔ یہ تبدیلیاں ابھی مجوزہ قانون کا حصہ ہیں اور حتمی قانونی حیثیت کے لیے متعلقہ قانون سازی کا عمل مکمل ہونا باقی ہے۔

مسودے میں پولیس کمانڈ اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات اور نگرانی کے تعلق کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انتظامی فیصلوں میں جوابدہی اور حکومتی نگرانی کا واضح نظام ہونا چاہیے، جبکہ پولیس کی خودمختاری کے حامی حلقے ایسے اقدامات کو ادارہ جاتی آزادی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس مرحلے پر کابینہ کی منظوری کو حتمی قانون سمجھنا درست نہیں ہوگا کیونکہ مسودے کو اسمبلی اور دیگر قانونی مراحل سے گزرنا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کے اختیارات کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ صوبہ طویل عرصے سے دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور امن و امان کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کررہا ہے۔ پولیس فورس کو روزمرہ جرائم کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور حساس اضلاع میں سکیورٹی ذمہ داریاں بھی انجام دینا پڑتی ہیں۔ ایسے ماحول میں تقرریوں، تبادلوں، آپریشنل فیصلوں اور حکومتی نگرانی کے دائرہ کار سے متعلق قانون سازی کے عملی اثرات وسیع ہوسکتے ہیں۔

مجوزہ ترامیم پر حتمی بحث کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ صوبائی حکومت اور پولیس کمانڈ کے اختیارات میں توازن کس طرح قائم کیا جاتا ہے اور کن فیصلوں کے لیے حکومتی منظوری لازم ہوگی۔ قانون منظور ہونے کی صورت میں اس کے نفاذ کے قواعد اور انتظامی طریقہ کار بھی اہم ہوں گے۔ فی الحال یہ معاملہ کابینہ سے منظور شدہ مسودے کی سطح پر ہے اور حتمی دفعات قانون سازی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔