خیبر پختونخوا کابینہ نے گواہ تحفظ ایکٹ 2021 کے تحت صوبائی گواہ تحفظ بورڈ اور اس کے ساتھ دو متعلقہ یونٹس کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں صوبائی وزرا اور انتظامی سیکریٹریوں نے شرکت کی، جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اجلاس کے فیصلوں کی تفصیل جاری کی۔
ڈان کے مطابق گواہ تحفظ بورڈ پالیسی رہنما اصول مرتب کرے گا، ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا اور متعلقہ یونٹس کی کارکردگی کو مانیٹر کرے گا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد ایسے گواہوں اور دیگر متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو دہشت گردی سمیت حساس فوجداری مقدمات کی تفتیش، استغاثہ اور عدالتی کارروائی سے منسلک ہوں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ گواہ تحفظ ایکٹ 2021 کی متعلقہ دفعات اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد حکومت سے بورڈ اور یونٹ ون اور یونٹ ٹو کے قیام کا تقاضا کرتے ہیں۔ کابینہ کی تازہ منظوری اس قانونی فریم ورک کو عملی شکل دینے کی جانب ایک انتظامی قدم ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ابھی بورڈ کے ارکان، یونٹس کی مکمل ساخت، بجٹ یا آپریشنل طریقۂ کار کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
اسی اجلاس میں کابینہ نے گاڑیوں کی رجسٹریشن دستاویزات، پولی کاربونیٹ اسمارٹ کارڈز، رجسٹریشن بک لیٹس اور اسٹیکرز کی طباعت و فراہمی کے لیے نظرثانی شدہ نرخوں کے ساتھ ایک نئے حکومت سے حکومت معاہدے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ بعض اہل سزا یافتہ قیدیوں کے لیے دو ماہ کی خصوصی معافی اور گلیات و مری کے درمیان پانی کی تقسیم، نرخوں، بقایاجات اور مقدار کے معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھنے کی منظوری دی گئی۔
گواہ تحفظ نظام کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں گواہوں کو دباؤ، دھمکی یا انتقامی کارروائی کے خدشات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم کابینہ کی منظوری بذاتِ خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ نظام فوری طور پر مکمل طور پر فعال ہو گیا ہے؛ اس کے لیے نوٹیفکیشن، ادارہ جاتی تشکیل، وسائل اور عملی قواعد پر عمل درآمد کی ضرورت ہوگی۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت بورڈ اور دو یونٹس کے قیام کی کابینہ منظوری تک محدود ہے۔




