پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ نے وِٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2021 کے تحت صوبائی وِٹنس پروٹیکشن بورڈ اور دو خصوصی یونٹس کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ 13 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں ہوا، جس میں صوبائی وزرا اور انتظامی سیکریٹریز نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اجلاس کے بعد فیصلوں کی تفصیل بتائی۔
صوبائی حکومت کے مطابق وِٹنس پروٹیکشن بورڈ کا بنیادی کام پالیسی رہنما اصول وضع کرنا، ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا اور متعلقہ تحفظ یونٹس کی کارکردگی کی نگرانی کرنا ہوگا۔ یہ انتظام ایسے گواہوں اور دیگر افراد کے تحفظ کے لیے بنایا جا رہا ہے جو حساس فوجداری کارروائیوں، تفتیش، استغاثہ یا عدالتی ٹرائل سے وابستہ ہوں، بالخصوص دہشت گردی اور سنگین جرائم کے مقدمات میں۔
خیبرپختونخوا وِٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2021 میں حکومت کو بورڈ اور تحفظ یونٹس قائم کرنے کا قانونی اختیار اور ذمہ داری دی گئی ہے۔ قانون میں تحفظ کے دائرے میں جسمانی سکیورٹی کے ساتھ بعض حالات میں نقل مکانی، شناخت کی تبدیلی یا دیگر معاون اقدامات کی گنجائش بھی موجود ہے۔ کابینہ کی تازہ منظوری اس قانونی ڈھانچے کو عملی شکل دینے کی طرف انتظامی قدم ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقدمے میں خودکار طور پر ایک ہی نوعیت کا حفاظتی انتظام نافذ ہوگا، بلکہ متعلقہ قواعد اور خطرے کی نوعیت کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔
اسی کابینہ اجلاس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن دستاویزات، پولی کاربونیٹ اسمارٹ کارڈز، رجسٹریشن بُک لیٹس اور اسٹیکرز کی طباعت و فراہمی کے لیے تازہ حکومتی معاہدے اور نظرثانی شدہ نرخوں کی منظوری بھی دی گئی۔ بعض اہل سزا یافتہ قیدیوں کے لیے دو ماہ کی خصوصی معافی کی منظوری دی گئی، جس کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن متعلقہ قواعد کے مطابق جاری ہونا ہے۔
کابینہ نے گلیات اور مری کے درمیان پانی کی تقسیم، نرخوں، واجبات اور سپلائی کے حجم سے متعلق تنازع کو مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں لے جانے کی بھی منظوری دی۔ تاہم وِٹنس پروٹیکشن بورڈ کا فیصلہ الگ قانونی و انتظامی اقدام ہے جس کا مقصد فوجداری انصاف کے نظام میں حساس گواہوں کی سکیورٹی مضبوط بنانا ہے۔




