خیبر پختونخوا حکومت نے چشمہ لفٹ کینال منصوبے پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کی دیرینہ ضرورت اور زرعی و معاشی ترقی کے لیے قومی اہمیت کا منصوبہ قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی سیکرٹری برائے موسمیاتی تبدیلی و آبی وسائل اویس منظور سمرا اور وزارت آبی وسائل کے ایڈیشنل سیکرٹری مہر علی شاہ کی ملاقات میں زیر بحث آیا۔ اجلاس میں صوبے کے دوسرے جاری آبی منصوبوں اور مستقبل کے پانی سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
گورنر کا موقف تھا کہ چشمہ لفٹ کینال کو مزید تاخیر کے بغیر شروع کیا جائے کیونکہ اس سے خیبر پختونخوا کے زرعی علاقوں کے ساتھ قومی پیداوار اور معاشی سرگرمی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لفٹ کینال روایتی نہر سے اس لحاظ سے مختلف ہوتی ہے کہ پانی کو قدرتی ڈھلوان کے بجائے پمپنگ کے ذریعے بلند سطح تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے منصوبے کی تعمیر کے ساتھ بجلی کی ضرورت، پمپنگ لاگت، دیکھ بھال، پانی کی دستیابی اور تقسیم کا واضح انتظام بھی ضروری ہوتا ہے۔
ملاقات میں کچھی کینال منصوبے پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور پانی کے تحفظ، مؤثر استعمال اور آنے والے برسوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تجاویز دیکھی گئیں۔ پاکستان کی زراعت آبپاشی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جبکہ موسمی تغیر، غیر ہموار بارش، آبادی میں اضافہ اور پرانے نہری نظام کے نقصانات پانی کے انتظام کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ کسی نئے منصوبے کا فائدہ اسی وقت پائیدار بنتا ہے جب کھیت تک پہنچنے والے پانی کی پیمائش، نہری نقصان میں کمی اور فصل کے مطابق مؤثر آبپاشی ساتھ ساتھ بہتر ہو۔
گورنر نے پشاور کے گورنر ہاؤس میں دریائے سندھ کے پانی سے متعلق ایک تقریب منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا، جس میں ماہرین، متعلقہ اداروں اور دیگر فریقوں کو دعوت دے کر آبی مسائل اور پائیدار حل پر گفتگو کی جائے گی۔ اس نوعیت کی مشاورت میں صوبوں کے حصے، نئی اسکیموں کی ترجیح، ماحولیاتی اثرات، تعمیراتی لاگت اور طویل مدتی آپریشن کے سوالات کو شفاف اعداد کے ساتھ سامنے رکھنا اہم ہوگا۔
اجلاس کے شرکا نے ملک کے آبی وسائل کے مؤثر اور منصفانہ استعمال کو قومی ترقی اور زرعی شعبے کے طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا اور صوبے کے زیر التوا آبی مسائل پر مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ موجودہ پیش رفت ایک پالیسی مطالبہ اور بین الادارہ رابطہ ہے؛ اسے تعمیر کے باضابطہ آغاز یا تکمیل کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگلے قابل پیمائش مراحل میں منصوبے کی منظور شدہ لاگت، مالی بندوبست، تکنیکی ڈیزائن، ماحولیاتی جائزہ، تعمیراتی مدت اور مستفید ہونے والے رقبے کی مصدقہ تفصیل شامل ہوگی۔ انہی معلومات سے یہ جانچا جا سکے گا کہ چشمہ لفٹ کینال کا مطالبہ عملی منصوبے میں کب اور کیسے تبدیل ہوتا ہے۔




