وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور تعاون یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھانے کے سوا راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے 17 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وفاق نے صوبائی قیادت کے ساتھ مل کر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم مطلوبہ تعاون حاصل نہ ہو سکا۔
وزیراعظم کے مطابق وفاقی حکومت نے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے بھی کوششیں کیں۔ انہوں نے حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد کی اپوزیشن سے ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ مذاکرات کا آخری دور بھی کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوا۔ شہباز شریف نے سابق فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے پیش رو علی امین گنڈاپور کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے کی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے لیے وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔
وفاق نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں صوبائی حکومت کی مبینہ عدم شمولیت اور عدم تعاون کو قرار دیا۔ رواں ہفتے پارلیمان نے بھی ان اقدامات کی توثیق کی، تاہم اپوزیشن نے اس فیصلے کی مخالفت اور احتجاج کیا ہے۔
وزیراعظم کے تازہ بیان کو وفاقی حکومت کے اس مؤقف کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال غیر معمولی انتظامی اقدام کی متقاضی تھی۔ دوسری جانب اس فیصلے کے آئینی اور سیاسی پہلوؤں پر بحث جاری ہے اور مخالف سیاسی جماعتیں اس کے جواز سے اختلاف کر رہی ہیں۔ وزیراعظم کا بیان حکومتی مؤقف ہے؛ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قانونی و سیاسی اعتراضات الگ عدالتی اور سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔
