اسلام آباد: پاکستان میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے ادویات کی پیکنگ پر دو جہتی یعنی 2D بارکوڈ اور منفرد سیریل نمبر کا نظام لازمی کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے 17 اکتوبر کو بتایا کہ 9 اکتوبر 2026 کے بعد تیار ہونے والی ادویات پر یہ شناختی نظام لاگو ہوگا، جس کا مقصد دوا کو تیاری یا درآمد کے مرحلے سے لے کر مارکیٹ تک قابلِ سراغ بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر صحت نے اس نظام کے آزمائشی مرحلے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، جس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حکام نے پیش رفت سے آگاہ کیا۔ حکام کے مطابق صارفین موبائل ایپ کے ذریعے پیکنگ پر موجود کوڈ اسکین کرکے دوا کی اصلیت، مقررہ قیمت اور تاریخِ تنسیخ معلوم کر سکیں گے۔ اس سہولت کا مقصد خریدار کو مشکوک، جعلی یا زائد المیعاد دوا کی شناخت میں براہِ راست مدد دینا ہے۔

ڈریپ اس سے قبل واضح کر چکا ہے کہ 9 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد مقامی طور پر تیار یا پاکستان میں درآمد ہونے والی رجسٹرڈ ادویات پہلے مرحلے میں 2D ڈیٹا میٹرکس بارکوڈ اور سیریلائزیشن کی پابند ہوں گی۔ اس تاریخ سے پہلے تیار یا درآمد شدہ بیچز کو موجودہ قواعد کے تحت فروخت اور تقسیم کی اجازت رہے گی۔ ریگولیٹر نے صنعت کے نمائندوں کے لیے تکنیکی تربیت، ورکشاپس اور رہنما مواد بھی فراہم کیا ہے تاکہ کمپنیوں کو نئے معیار کے مطابق نظام اپنانے میں سہولت مل سکے۔

وزیر صحت کے مطابق یہ نظام صرف انسانی استعمال کی مقامی ادویات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ درآمدی، ویٹرنری اور پولٹری ادویات تک بھی توسیع دی جائے گی۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام سپلائی چین میں شفافیت بڑھانے، مشکوک مصنوعات کی نشاندہی اور ضرورت پڑنے پر مخصوص بیچ واپس منگوانے کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ڈریپ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو مقررہ تکنیکی تقاضوں پر عمل کرنا ہوگا اور عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ حکام اس اقدام کو ادویات کی نگرانی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور مریضوں کے تحفظ کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔