اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عدالتی حکم مقدمے کے تفتیشی مرحلے سے متعلق ہے اور اسے الزامات پر حتمی عدالتی فیصلہ یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔
ڈان کے مطابق مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ اسلام آباد پولیس نے خالد خورشید کو عدالت میں پیش کیا اور تفتیش کے لیے 30 روز کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا۔ عدالت نے پولیس کی یہ استدعا منظور نہیں کی اور ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
مقدمہ نومبر 26 کے احتجاج سے جڑے واقعات کے تناظر میں درج کیا گیا ہے۔ خالد خورشید پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی سیاسی اور قانونی دونوں حوالوں سے توجہ کا مرکز ہے۔ تاہم کسی سیاسی وابستگی یا عہدے سے قطع نظر مقدمے میں عائد الزامات کا تعین شواہد اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا ہے۔
جسمانی ریمانڈ اور جوڈیشل ریمانڈ کے درمیان قانونی فرق بھی اہم ہے۔ جسمانی ریمانڈ میں ملزم تفتیشی ادارے کی تحویل میں رہتا ہے، جبکہ جوڈیشل ریمانڈ میں اسے جیل حکام کی تحویل میں بھیجا جاتا ہے اور مزید تفتیش یا عدالتی کارروائی قانون کے مقررہ طریقہ کار کے تحت آگے بڑھتی ہے۔ عدالت کی جانب سے پولیس کی مطلوبہ مدت مسترد کرنا مقدمے کے خاتمے یا بریت کا حکم نہیں ہے۔
تازہ حکم کے بعد استغاثہ کو مقدمے کے ریکارڈ، دستیاب شواہد اور قانونی بنیادوں کے مطابق اگلے مراحل طے کرنا ہوں گے، جبکہ دفاع کو متعلقہ عدالتوں میں ضمانت یا دیگر قانونی ریلیف کے لیے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ مقدمے میں آئندہ سماعتوں اور کسی ممکنہ چالان یا مزید عدالتی حکم سے ہی یہ واضح ہوگا کہ کارروائی کس سمت آگے بڑھتی ہے۔

