اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مشین ریڈایبل پاسپورٹس (ایم آر پیز) کے نئے اجرا کو مرحلہ وار ختم کرکے مکمل طور پر الیکٹرانک پاسپورٹس پر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں دی گئی سرکاری معلومات کے مطابق آئندہ تقریباً ایک ماہ کے اندر مشین ریڈایبل پاسپورٹس کا اجرا بند کردیا جائے گا اور اس کے بعد پاکستان کے پاسپورٹ دفاتر کے ساتھ بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز بھی صرف ای پاسپورٹس جاری کریں گے۔

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ پہلے سے جاری مشین ریڈایبل پاسپورٹس فوری طور پر منسوخ نہیں ہوں گے۔ ایسے تمام پاسپورٹس اپنی درج شدہ تاریخِ تنسیخ تک بدستور قابلِ استعمال رہیں گے، اس لیے موجودہ پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے محض اس پالیسی تبدیلی کی وجہ سے فوری طور پر نیا پاسپورٹ حاصل کرنا لازم نہیں ہوگا۔

وزیر کے مطابق ای پاسپورٹ میں الیکٹرانک چپ شامل ہوتی ہے جس میں پاسپورٹ ہولڈر کا بائیومیٹرک اور ذاتی ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے شناخت کی تصدیق زیادہ مؤثر ہوگی اور جعل سازی، دستاویز میں ردوبدل اور پاسپورٹ کے دھوکہ دہی پر مبنی استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ حکام نے اس منتقلی کو عالمی امیگریشن نظام میں تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش قرار دیا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملک کی بڑی آبادی اور پاسپورٹ دفاتر کو درپیش انتظامی و عملی چیلنجز نفاذ کی رفتار پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ماہ کی مدت حکومتی ہدف ہے، جبکہ عملی سطح پر بعض مقامات پر تاخیر کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا۔ اس فرق کو اہم سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اعلان کا تعلق نئے پاسپورٹس کے اجرا کے نظام سے ہے، نہ کہ پہلے سے جاری تمام ایم آر پیز کی یک دم منسوخی سے۔

یہ اقدام شہری دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن اور سرحدی شناختی نظام کو جدید بنانے کی وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ منتقلی مکمل ہونے کے بعد نئے درخواست گزاروں کے لیے ای پاسپورٹ بنیادی سفری دستاویز ہوگا۔ حکومت کو اب ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر اور بیرون ملک مشنز میں ضروری تکنیکی صلاحیت، آلات، تربیت اور درخواستوں کی پراسیسنگ کو اس ہدف کے مطابق یقینی بنانا ہوگا۔