اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی روٹ سے متعلق مقدمے کا ریکارڈ مسلسل پیش نہ کیے جانے پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے دو پولیس افسران کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے اور متنبہ کیا کہ عدالتی ریکارڈ پیش نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔

ڈان کے مطابق مقدمے کی سماعت جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل، رکاوٹیں ہٹانے اور عوامی بے چینی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ فرد جرم عائد ہونا الزام کی باضابطہ عدالتی تشکیل ہے، جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں؛ ملزمان کو الزامات کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

ہفتے کی سماعت میں عدالت نے تفتیشی افسر کی غیر حاضری اور مقدمے کا ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر ناراضی ظاہر کی۔ عدالتی عملے نے بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے۔ بعد میں ایس پی خرم اشرف اور ڈی ایس پی نعیم یوسف عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا گیا کہ افسر کی واپسی میں مزید 10 سے 15 روز لگ سکتے ہیں۔ عدالت نے اس صورتحال پر سوال اٹھایا کہ زیر التوا درخواستوں پر فیصلہ ریکارڈ کے بغیر کیسے کیا جائے۔

دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر کی عدم موجودگی میں کسی دوسرے اہلکار کے ذریعے ریکارڈ پیش کیا جاسکتا تھا اور طویل تاخیر ملزمان کے قانونی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔ عدالت نے ایس پی اور ڈی ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کیے، جبکہ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس محمد سہیل چوہدری کو 3 نومبر کی آئندہ سماعت پر طلب کیا گیا ہے۔

یہ کارروائی بنیادی طور پر عدالتی ریکارڈ کی دستیابی، تفتیشی ادارے کی ذمہ داری اور مقدمے کی بروقت سماعت کے سوال سے متعلق ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر بنیادی الزامات کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ آئندہ سماعت میں پولیس حکام کی وضاحت، مقدمے کا ریکارڈ اور دفاع کی زیر التوا درخواستیں کارروائی کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوں گی۔