کوئٹہ/مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے میں 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا، جبکہ صوبائی حکام اور پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی تلاش اور بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق یہ اہلکار قلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے تھے اور ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کی جانب جا رہے تھے۔ اہلکار ایک نجی مسافر وین میں سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد نے راستے میں گاڑی کو روک لیا۔ حکام کے مطابق اغوا کیے گئے اہلکار سابق لیویز اہلکار تھے جو لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد تربیت کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے صوبائی حکومت اور پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ اہلکار قلات سے نوشکی کی طرف جا رہے تھے اور انہوں نے سربند کا راستہ اختیار کیا تھا، جو قلات اور مستونگ کو نوشکی سے ملاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے گاڑی کو گھیر کر اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے لیا۔ بعد میں وین کے ڈرائیور اور اس میں موجود تین دیگر شہری مسافروں کو چھوڑ دیا گیا، تاہم 20 زیرِ تربیت اہلکاروں کو نامعلوم مقام کی طرف منتقل کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق مغوی اہلکار رخشان ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی تفصیل کے مطابق ان میں خاران، نوشکی، چاغی اور واشک سے تعلق رکھنے والے اہلکار شامل ہیں۔ ڈان نے بھی سرکاری ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی کہ مغوی اہلکار رخشان ڈویژن کے رہائشی ہیں۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے قریبی علاقوں اور پہاڑی خطوں میں تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے۔ خبر مرتب کیے جانے تک کسی گروہ نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی اور مغوی اہلکاروں کے مقام کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ اس لیے واقعے کے محرکات یا ذمہ دار عناصر کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔

بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کے اغوا کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک روز قبل رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کے اغوا کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تازہ واقعے میں اولین ترجیح زیرِ تربیت اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی ہے اور متعلقہ ادارے اس مقصد کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔