جڑانوالہ: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامی بندوبست میں مبینہ طور پر ’حصہ‘ مانگنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ الزام طلال چوہدری کی جانب سے عائد کیا گیا ہے؛ مولانا فضل الرحمان کا اس مخصوص الزام پر تازہ جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

میڈیا سے گفتگو میں طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا مقصد سیاسی حکومت بنانا یا مسلم لیگ ن کی صوبے میں سیاسی جگہ بڑھانا نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک نکاتی انتظامی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دیگر راستے آزمانے کے بعد کیا گیا اور وفاق صوبے میں سیاسی شراکتیں تقسیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

وزیر مملکت نے مولانا فضل الرحمان کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر کنٹرول کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ انہوں نے قومی ایکشن پلان پر تمام سیاسی قوتوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر عمل کرنے کی پیشکش دہرائی۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے پی ٹی آئی اور تحریک طالبان پاکستان کے ممکنہ تعلق سے متعلق بھی الزامات عائد کیے، تاہم یہ حکومتی سیاسی دعوے ہیں اور رپورٹ میں ان کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی سیالکوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیا اور کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج سے قبل پی ٹی آئی اور حزب اختلاف کی قیادت سے رابطے کیے تھے مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ان کے مطابق صوبے میں حالات بہتر ہونے اور ضمانت ملنے کی صورت میں پارلیمان ایمرجنسی کے فیصلے کو واپس لینے کی طرف جا سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت پر صوبائی حقوق سلب کرنے اور گورنر راج کے جواز پر سوال اٹھانے سمیت متعدد اعتراضات کیے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دے کر بھی وفاق کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ نے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ وفاق اس اقدام کو بنیادی طور پر انسداد دہشت گردی اور انتظامی ضرورت سے جوڑ رہا ہے۔