کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے قلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کرنے والے 20 اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔ حکام کے مطابق اہلکار ہفتہ وار تعطیل پر اپنے گھروں کو جا رہے تھے اور کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک مسافر وین میں سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد نے گاڑی کو روک لیا۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور ان کے پاس خودکار ہتھیار تھے۔ حکام کے مطابق حملہ آور زیرِ تربیت اہلکاروں کو وین سمیت نامعلوم مقام کی طرف لے گئے، تاہم ڈرائیور اور وین میں موجود تین دیگر مسافروں کو چھوڑ دیا گیا۔
مستونگ پولیس حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق اغوا کیے گئے اہلکار بنیادی طور پر لیویز فورس سے تعلق رکھتے تھے، جسے بعد میں پولیس میں ضم کر دیا گیا تھا۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ یہ اہلکار رخشان ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں اور قلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں تربیت کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔
واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے قریبی پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ اہلکاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ خبر کی اشاعت تک مغوی اہلکاروں کے مقام کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ کسی مسلح گروپ نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اس لیے حملہ آوروں کی شناخت یا مقصد کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔
یہ واقعہ بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے حالیہ واقعات کے پس منظر میں پیش آیا ہے۔ ایک روز قبل رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کے اغوا کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس سے پہلے خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو ستمبر میں نوشکی خاران شاہراہ سے اغوا کیا گیا تھا اور تقریباً دو ہفتے بعد قبائلی عمائدین اور اغوا کاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد انہیں بحفاظت رہا کیا گیا۔ جولائی میں چاغی میں ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد تین ایکسائز اہلکار بھی اغوا ہوئے تھے۔
مستونگ کے تازہ واقعے میں حکام کی جانب سے اب تک بنیادی طور پر اغوا، اہلکاروں کی تعداد اور سرچ آپریشن کی تصدیق کی گئی ہے۔ اہلکاروں کی بازیابی، اغوا کاروں کی شناخت یا کسی ممکنہ مطالبے سے متعلق کوئی حتمی سرکاری تفصیل جاری نہیں ہوئی۔ صورتحال میں پیش رفت کی صورت میں متعلقہ صوبائی حکومت، پولیس اور سکیورٹی اداروں کی تصدیق اہم ہوگی۔

