اسلام آباد: راولپنڈی میں ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اعلیٰ سطحی ٹیم نے ان کے شوہر کے ملوث ہونے کے شواہد نہ ملنے کا مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ فرانزک مواد گھریلو ملازم سے مطابقت رکھتا ہے۔ دوسری جانب مقتولہ کے خاندان نے تفتیشی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے تحقیقات کے بعض پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید 20 اگست کو راولپنڈی کے لال کرتی علاقے میں اپنے اپارٹمنٹ کے باتھ روم میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ابتدائی پولیس معلومات میں جسم پر تشدد کے آثار کا ذکر کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد کیس نے عوامی توجہ حاصل کی اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا۔

تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے نمونوں کے فرانزک تجزیے میں ایسے شواہد سامنے آئے جو مقتولہ کے گھریلو ملازم سے منسلک ہیں۔ ٹیم کے مطابق دستیاب مادی شواہد کی بنیاد پر شوہر کے خلاف قتل میں براہ راست ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔ یہ تفتیشی نتیجہ ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں، اور کسی بھی ملزم کی مجرمانہ ذمہ داری عدالت میں ثبوت کے معیار کے مطابق طے ہوگی۔

مقتولہ کے خاندان نے اس نتیجے پر اختلاف کرتے ہوئے شوہر کے رویے، واقعے کے بعد کے بعض اقدامات اور تفتیش میں مبینہ تضادات کا حوالہ دیا ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ تمام پہلوؤں کی مزید آزادانہ اور شفاف جانچ ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں خاندان کے اعتراضات کو الزامات اور سوالات کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ ثابت شدہ حقائق کے طور پر۔

کیس کی حساسیت کے باعث فرانزک شواہد، موبائل یا ڈیجیٹل ریکارڈ، جائے وقوعہ کی شہادت اور گواہوں کے بیانات آئندہ قانونی کارروائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولیس یا تفتیشی ادارے کی جانب سے کسی شخص کو کلیئر قرار دینا پراسیکیوشن اور عدالت کے اختیارات کا متبادل نہیں ہوتا، خصوصاً اگر نئی شہادت سامنے آئے یا متاثرہ خاندان قانونی طور پر مزید جانچ کا مطالبہ کرے۔

حنا جاوید قتل کیس میں تازہ پیش رفت نے تحقیقات کی سمت واضح کی ہے، لیکن خاندان کے اعتراضات کے باعث معاملہ مکمل طور پر بند تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آئندہ مرحلے میں چالان، ممکنہ فرد جرم، فرانزک مواد کی عدالتی جانچ اور متعلقہ ملزم کے خلاف ثبوت کی قانونی حیثیت سے یہ طے ہوگا کہ تفتیشی نتائج کس حد تک برقرار رہتے ہیں۔