اسلام آباد: کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نے پاکستان کے مخالفین کو خبردار کیا ہے کہ جوہری ماحول میں تنازع یا جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور کسی بھی غلط اندازے کی صورت میں پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بیانات کے باعث سکیورٹی اور سرحد پار کشیدگی سے متعلق سفارتی ماحول ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نے کہا کہ مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور سرحد پار سے مخالفانہ عزائم رکھنے والوں کے لیے پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ دفاعی تیاری اور بازدار صلاحیت تھا۔ انہوں نے جوہری ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی فریق کی جانب سے غلط اندازہ خطے کے لیے سنگین نتائج پیدا کرسکتا ہے۔

یہ انتباہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا۔ بھارتی وزیر نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کسی نئی دہشت گرد سرگرمی کی صورت میں بھارت پہلے سے بڑی کارروائی کرسکتا ہے۔ پاکستان نے بھارتی مؤقف اور دھمکی آمیز زبان پر اعتراض کیا ہے۔ دہشت گردی سے متعلق دونوں ممالک کے الزامات اور جوابی مؤقف طویل عرصے سے دوطرفہ تعلقات میں تنازع کا باعث رہے ہیں، اس لیے ایسے بیانات کو متعلقہ فریقوں کے سرکاری دعووں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ بھی ایک روز قبل بھارتی وزیر کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دے چکا ہے اور بھارت کو مزید کشیدگی سے گریز کا کہا تھا۔ اس پس منظر میں اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کا بیان پاکستان کی دفاعی پوزیشن کا تسلسل ہے، نہ کہ کسی نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان۔ دستیاب رپورٹ میں کسی عملی حملے، فوجی نقل و حرکت یا جنگی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ہمسایہ ممالک ہیں اور ان کے درمیان ماضی میں متعدد فوجی بحران پیدا ہو چکے ہیں۔ اسی لیے اعلیٰ سطح کے عسکری اور سیاسی بیانات علاقائی سلامتی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اصل پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ دونوں ممالک آئندہ سرکاری رابطوں، سفارتی بیانات اور سرحدی حالات میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں یا اسے محدود رکھنے کے اقدامات کرتے ہیں۔