خضدار: بلوچستان کے ضلع خضدار میں ہفتے کی صبح 5.9 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ صبح 10 بج کر 7 منٹ پر آیا اور اس کی گہرائی 25 کلومیٹر تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز خضدار سے تقریباً 48 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ اس کے جغرافیائی نقاط 28.02 درجے شمالی عرض البلد اور 66.20 درجے مشرقی طول البلد بتائے گئے۔ یہ اعداد محکمہ موسمیات کے اسلام آباد دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے۔

زلزلے کی شدت کے باعث متاثرہ علاقے میں لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہونا فطری امر ہے، تاہم دستیاب سرکاری اور میڈیا رپورٹ میں کسی عمارت کے منہدم ہونے، زخمی ہونے یا ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ابتدائی زلزلہ رپورٹس میں نقصان کی صورتحال بعد میں تبدیل بھی ہوسکتی ہے، اس لیے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی آئندہ معلومات اہم رہیں گی۔

بلوچستان میں رواں سال اس سے پہلے بھی مختلف شدت کے زلزلے ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ اگست میں ژوب اور چمن سمیت صوبے کے بعض حصوں میں 4.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر اور مرکز ژوب سے 122 کلومیٹر شمال مشرق بتایا گیا تھا۔ جولائی میں کوئٹہ، زیارت، ہرنائی اور گرد و نواح میں بھی 4 شدت کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ان واقعات میں بھی فوری طور پر بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

پاکستان جغرافیائی طور پر عربین، یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹوں کے اثر والے خطے میں واقع ہے اور ملک کے مختلف حصے متعدد فالٹ لائنز سے متاثر ہوتے ہیں۔ بلوچستان خاص طور پر زلزلہ خیزی کی تاریخ رکھتا ہے، اس لیے درمیانی یا زیادہ شدت کے جھٹکوں کے بعد عمارتوں کے معائنے، آفٹر شاکس سے متعلق احتیاط اور مقامی ہنگامی اداروں کی ہدایات پر عمل اہم ہوتا ہے۔ تازہ واقعے میں نقصان نہ ہونے کی ابتدائی اطلاع اطمینان بخش ہے، تاہم حتمی صورتحال متعلقہ حکام کی مزید جانچ کے بعد واضح ہوگی۔