خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کا خاکہ پیش کیا ہے، جن میں فیس لیس انسداد دہشت گردی عدالتوں کا قیام اور پولیس و کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک سال کے دوران تقریباً 70 ارب روپے کے اخراجات شامل ہیں۔ ڈان کی 8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ فیس لیس اے ٹی سیز کا مقصد حساس مقدمات میں صرف گواہوں ہی نہیں بلکہ پراسیکیوٹرز اور ججوں کے تحفظ کو بھی مضبوط بنانا ہے۔

فیس لیس عدالتی نظام کا تصور ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور شدت پسندی سے متعلق مقدمات کی پیروی کے دوران سکیورٹی خدشات ایک اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق نئے انتظام کے ذریعے مقدمات کی کارروائی میں شامل افراد کی شناخت اور جسمانی سلامتی کے لیے زیادہ محفوظ طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس منصوبے کی عملی شکل، عدالتی طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی تفصیلات متعلقہ اداروں کی تیاری اور قواعد کے مطابق طے ہونا باقی ہیں۔

حکومت نے اس کے ساتھ پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیت میں اضافے کو بھی اپنی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا مرکزی حصہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں تقریباً 70 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ رقم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضروریات، استعداد اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق اقدامات پر مرکوز ہوگی۔ تاہم ہر مد میں رقم کی حتمی تقسیم اور تمام منصوبوں کی تکمیل ان کے انتظامی اور مالی مراحل سے مشروط ہوگی۔

صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں حکومت کے لیے صرف اضافی وسائل فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ تحقیقات، پراسیکیوشن اور عدالتی عمل کے درمیان مؤثر رابطہ بھی اہم ہوگا۔ فیس لیس عدالتوں کا مجوزہ نظام اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ حساس مقدمات میں دھمکیوں اور دباؤ کے خطرات کم کیے جا سکیں۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ملزمان کے قانونی حقوق، شفاف سماعت اور عدالتی نگرانی کے تقاضے بھی برقرار رہیں۔

یہ اقدامات صوبائی حکومت کی پالیسی اور منصوبہ بندی کے مرحلے سے متعلق ہیں؛ انہیں مکمل شدہ نتائج کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آئندہ پیش رفت میں بجٹ کے عملی استعمال، عدالتوں کے قیام، متعلقہ قواعد اور پولیس و سی ٹی ڈی کی استعداد میں قابل پیمائش تبدیلیاں اہم ہوں گی۔