وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جہلم میں اپنے مجوزہ دورے کے انتظامات کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ کے کمپیوٹر سائنس کے پرچے ملتوی کرانے کی سفارش سامنے آنے کے بعد ضلع کے ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ڈان کے مطابق انٹرمیڈیٹ سیکنڈ اینول امتحانات 2026 کے کمپیوٹر سائنس کے پرچے اصل میں 10 نومبر کو ہونا تھے، مگر ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر انہیں مؤخر کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سابق ڈپٹی کمشنر نے راولپنڈی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعلیٰ کے طے شدہ دورے کے دوران انتظامی اور سکیورٹی عملے کی تعیناتی کے باعث ضلع میں امتحان کا ہموار اور بلا تعطل انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔ اسی بنیاد پر امتحان کسی دوسری موزوں تاریخ تک منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی تنقید سامنے آئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے بعد ازاں اعلان کیا کہ ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلے ہی واضح ہدایات دے رکھی تھیں کہ ان کے ضلعی دوروں کے دوران عوام کو کسی قسم کی تکلیف یا معمولات میں خلل نہ ڈالا جائے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق میر رضا اوزگن کو تبدیل کرکے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کی گریڈ 19 افسر اسما اعجاز کو جہلم کی نئی ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ پہلے ملتوی کیے گئے کمپیوٹر سائنس کے امتحانات اب اصل شیڈول کے مطابق منگل 10 نومبر کو ہی ہوں گے۔ انہوں نے علاقائی اور ضلعی پولیس افسران، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ ان کے دورے کی وجہ سے کسی مارکیٹ، دکان، کاروبار یا دوسرے ادارے کو بند نہ کرایا جائے۔ رہائشی گلیوں کو بند یا سیل کرنے اور سکیورٹی انتظامات کے نام پر شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی۔

یہ کارروائی ایک انتظامی فیصلہ ہے اور اس کا فوری اثر ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی اور امتحانی شیڈول پر پڑا ہے۔ طلبہ کیلئے اہم نتیجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر سائنس کے متعلقہ پرچے 10 نومبر کے طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کو وزیراعلیٰ کے دوروں کے دوران معمولاتِ زندگی متاثر نہ کرنے کی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔