گوجرانوالہ کے قومی اسمبلی حلقہ این اے 77 اور ساہیوال کے پنجاب اسمبلی حلقہ پی پی 203 میں اتوار 8 نومبر کو ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہوگئی۔ ڈان کے مطابق دونوں نشستیں متعلقہ منتخب ارکان کی ستمبر میں وفات کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی، جبکہ مقررہ وقت پر پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

این اے 77 کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو طویل علالت کے بعد انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ ان کے صاحبزادے راشد بشیر ورک بھی ضمنی انتخاب کے امیدواروں میں شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق راشد ورک سمیت 18 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، تاہم پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس ضمنی انتخاب میں امیدوار نہیں اتارا۔

پولنگ کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملات بھی سامنے آئے۔ صوبائی الیکشن کمشنر کے دفتر کے بیان کے مطابق پنجاب اسمبلی کی رکن قدسیہ بتول، رکن قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ اور پارلیمانی سیکریٹری شازیہ رضوان کو سوشل میڈیا پر پولنگ اسٹیشنوں کے دوروں سے متعلق اطلاعات کے بعد نوٹس جاری کیے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار اور رکن صوبائی اسمبلی حنا ارشد وڑائچ کو بھی مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنوں کے دوروں پر وضاحت کے لیے طلب کیا گیا۔ یہ الزامات ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ متعلقہ انتخابی حکام کی کارروائی کے بعد ہوگا۔

ایک الگ شکایت میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار قاضی ابراہیم گجر کے حامیوں پر بیلٹ پیپرز پر کھلے عام مہریں لگانے کا الزام عائد کیا۔ صوبائی الیکشن کمشنر نے متعلقہ ریٹرننگ افسر کو معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس دعوے کو ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا اور انتخابی حکام کی تحقیقات اس کی حیثیت طے کریں گی۔

پی پی 203 ساہیوال کی نشست مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چوہدری محمد حنیف جٹ کے 17 ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ حلقے میں 185 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے اور تقریباً 1,370 انتخابی اہلکار تعینات تھے۔ ضلعی پولیس کے مطابق سکیورٹی کے لیے 1,100 اہلکار بھی ڈیوٹی پر مامور کیے گئے۔ پولنگ مکمل ہونے کے بعد حتمی نتیجہ انتخابی عمل، گنتی اور الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق سامنے آنا ہے۔