وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو لاہور کے علاقے جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتحال اور قومی اہمیت کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے حوالے سے ڈان نے رپورٹ کیا کہ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے نواز شریف کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبے کی ترقی و خوشحالی سے متعلق حالیہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے اکتوبر میں ہنگامی انتظام اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اور صوبائی انتظام سے متعلق خدشات سے جوڑا ہے۔

شہباز شریف اور نواز شریف ماضی میں بھی اس فیصلے کا دفاع کر چکے ہیں۔ وزیراعظم کا مؤقف رہا ہے کہ وفاق کو سکیورٹی حالات کے باعث مداخلت کرنا پڑی، جبکہ نواز شریف نے کہا تھا کہ یہ قدم پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ان بیانات کے باوجود خیبر پختونخوا میں سیاسی اور آئینی صورتحال سے متعلق مختلف جماعتوں کے مؤقف الگ ہیں، اس لیے ملاقات میں ہونے والی بریفنگ کو حکومتی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ملاقات میں وفاقی حکومت کی جاری معاشی اصلاحات، درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قومی معیشت کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔ دستیاب سرکاری بیان میں کسی نئی معاشی پالیسی، مالی پیکیج یا قانون سازی کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اس ملاقات کو پالیسی فیصلے کے بجائے اعلیٰ سطحی سیاسی و حکومتی مشاورت کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی موجودگی سے ملاقات کی سیاسی اہمیت مزید نمایاں ہوئی، کیونکہ گفتگو میں وفاقی اور صوبائی سطح کے معاملات دونوں شامل تھے۔ تاہم سرکاری رپورٹ نے بات چیت کی تمام تفصیلات جاری نہیں کیں اور صرف وسیع موضوعات کی نشاندہی کی ہے۔

ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب وفاقی حکومت کو سکیورٹی، صوبائی انتظام اور معاشی اصلاحات کے متعدد محاذوں پر فیصلوں کا سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ جاتی امرا کی اس مشاورت کے بعد کوئی باقاعدہ حکومتی اقدام، پالیسی اعلان یا جماعتی فیصلہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت دونوں رہنماؤں کی ملاقات اور مذکورہ موضوعات پر تبادلہ خیال تک محدود ہے۔