کراچی: بلوچستان کے مہرگڑھ میوزیم میں آثار قدیمہ کے تحفظ اور عجائب گھر کی سہولتوں کی بہتری کا منصوبہ مکمل ہوگیا ہے۔ سات نومبر کو فریئر ہال میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر، بلوچستان کے پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی اور منصوبے کے ماہرین شریک ہوئے۔

یہ کام امریکی سفیروں کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کے تعاون سے کیا گیا۔ منصوبہ سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی اور بلوچستان کے محکمہ ثقافت کی شراکت سے مکمل ہوا۔ اس میں قدیم نوادرات کو محفوظ رکھنے، ان کے ریکارڈ اور نمائش کو بہتر بنانے اور مقامی پیشہ ور افراد کی تربیت پر توجہ دی گئی۔

کوئٹہ میں واقع میوزیم کو رواں ماہ باضابطہ طور پر دوبارہ کھولنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم دستیاب رپورٹوں میں افتتاح کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ کراچی کی تقریب منصوبے کی تکمیل کے لیے تھی؛ اسے کوئٹہ میں عوامی افتتاح کی تقریب قرار نہیں دیا جا رہا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق بہتری کے کام میں گیلریوں کی ترتیب، نمائشی ڈبوں اور معلوماتی تختیوں کے ساتھ ذخیرے کی دستاویز بندی اور ڈیجیٹل ریکارڈ پر بھی کام شامل تھا۔ مقامی عملے کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی سرگرمیاں اور انٹرن شپس رکھی گئیں تاکہ مجموعے کی دیکھ بھال منصوبے کے بعد بھی جاری رہ سکے۔

منصوبے کی ماہر ڈاکٹر اسماء ابراہیم نے میوزیم کو بلوچستان کی وسیع آثار قدیمہ، تاریخی اور ثقافتی روایت کا نمائندہ قرار دیا۔ مہرگڑھ کی قدیم آبادی اور زرعی زندگی سے متعلق ورثے کے ساتھ صوبے کے دوسرے تاریخی ادوار کو بھی پیش کرنے کا مقصد بتایا گیا ہے۔ اس کام کا تعلیمی پہلو طلبہ، محققین اور مقامی آبادی کو محفوظ نوادرات اور ان کے پس منظر تک بہتر رسائی دینا ہے۔