پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کے چار بین الاقوامی اجازت ناموں کی نیلامی سے مجموعی طور پر 12 لاکھ 11 ہزار 800 امریکی ڈالر حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلی حیات نے اس رقم کو پاکستان میں اس پروگرام کی تاریخ کی سب سے زیادہ آمدن قرار دیا۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 33 کروڑ 57 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

محکمے کے مطابق نیلامی چترال اور کوہستان کی مقامی دیہی تحفظ کمیٹیوں سے متعلق مخصوص شکار گاہوں کے لیے کی گئی۔ توشی ون چترال کے اجازت نامے کی بولی تین لاکھ 20 ہزار 600 ڈالر رہی، توشی ٹو چترال کے لیے تین لاکھ 35 ہزار 600 ڈالر، گاہیرت گول چترال کے لیے دو لاکھ 60 ہزار ڈالر اور کیگاہ خوار کوہستان کے لیے دو لاکھ 95 ہزار 600 ڈالر کی بولی سامنے آئی۔ ان چار بولیوں کا مجموعہ اعلان کردہ آمدن کے برابر بنتا ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت محدود تعداد میں اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کا ہدف مارخور کی آبادی میں سے بالغ اور زیادہ عمر کے نر جانور ہوتے ہیں، نہ کہ ہر عمر اور جنس کے جانوروں کا غیر محدود شکار۔ پروگرام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ضابطے کے تحت محدود شکار سے حاصل ہونے والی رقم کو مقامی آبادی اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ تاہم اس خبر میں رپورٹ ہونے والی بنیادی پیش رفت اجازت ناموں کی نیلامی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ہے؛ رقم کی مستقبل میں تقسیم یا خرچ کے نتائج کو ابھی ثابت شدہ کارکردگی کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

محکمہ جنگلی حیات نے نیلامی کو تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس دعوے کی بنیاد محکمانہ اعدادوشمار اور اعلان کردہ بولیاں ہیں، جن کی تفصیلات ڈان نے رپورٹ کیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کے بارے میں تحفظِ فطرت کے فیصلے محض آمدن کی بنیاد پر نہیں بلکہ مارخور کی آبادی، نگرانی اور مقامی شراکت داری کو دیکھ کر کیے جائیں۔ اس لیے آئندہ مرحلے میں متعلقہ اداروں کی شفاف رپورٹنگ اہم ہوگی۔

مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور شمالی پہاڑی علاقوں میں اس کی موجودگی مقامی ماحولیاتی تنوع کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ چترال اور کوہستان کی مختلف شکار گاہوں سے ملنے والی بلند بولیوں نے ایک مرتبہ پھر اس پروگرام کے مالی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم محکمہ کے اعلان کو مخصوص مالی سال کی نیلامی کی کامیابی کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے؛ اس سے جنگلی حیات کے طویل مدتی تحفظ کے اثرات کا ازخود نتیجہ اخذ نہیں ہوتا۔