کراچی: سندھ حکومت نے عالمی بینک سے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے لیے مالی سال 2026-27 میں 35 کروڑ امریکی ڈالر کی مالی معاونت طلب کی ہے۔ اس تجویز کا مقصد صوبے میں مستقبل کے سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ درخواست صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان اجلاس میں پیش کی گئی۔ یہ اس مرحلے پر مالی تعاون کی درخواست ہے، منظور شدہ نئی رقم کی تصدیق نہیں۔
اجلاس میں شہری علاقوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے، اہم شہروں اور قصبوں میں ترقیاتی کاموں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے امور پر غور ہوا۔ عالمی بینک کے وفد میں اربن اسپیشلسٹ سلیم روحانہ، ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اسپیشلسٹ بلال خالد اور امپارو سیمپر ہیرالڈو شامل تھے۔ صوبائی وفد میں سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم احمد شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔
جام خان شورو نے کہا کہ سندھ حکومت کی ترجیح صرف دیہی علاقوں میں سیلاب سے تحفظ نہیں بلکہ شہروں کو بھی بہتر طور پر تیار کرنا ہے۔ انہوں نے پائیدار شہری منصوبہ بندی، مؤثر نکاسی آب، انتظامی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔ صوبائی حکام نے اجلاس کو 2022 کے تباہ کن سیلاب، جاری بحالی کاموں اور آئندہ خطرات کم کرنے کے لیے تجویز کردہ اقدامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2022 کے سیلاب سے سندھ میں ایک کروڑ 46 لاکھ افراد متاثر ہوئے، مجموعی معاشی اور انفرااسٹرکچر نقصان کا اندازہ 9.1 ارب ڈالر لگایا گیا اور 17 لاکھ 10 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے۔ ان تاریخی نقصانات کا حوالہ نئی مالی ضرورت کی وضاحت کے لیے دیا گیا، تاہم یہ نقصانات موجودہ سال میں کسی نئے سیلاب سے متعلق نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی معاونت سے جاری منصوبوں میں پہلے ہی تقریباً 1.6 ارب ڈالر کی رقم متحرک کی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت 848 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں اور 205 کلومیٹر حفاظتی پشتے بحال کیے گئے، نو لاکھ سے زیادہ مکانات کی مرمت یا تعمیر نو ہوئی اور 14 اضلاع میں ریسکیو 1122 کے 26 جدید اسٹیشن قائم کیے گئے۔ یہ پہلے سے جاری معاونت اور کام ہیں جنہیں مجوزہ 35 کروڑ ڈالر کی نئی درخواست سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
مجوزہ منصوبے کے پہلے حصے میں دریا کے طاس کی سطح پر سیلاب سے بچاؤ، خصوصاً سندھ کے دائیں کنارے کے علاقوں کی حفاظت، پر توجہ ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کی نشان دہی ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی حالیہ تحقیق کی بنیاد پر کی گئی۔ دوسرے حصے میں چھوٹے اور درمیانے شہروں کو سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا شامل ہے۔
شہری منصوبوں کی ترجیحات طے کرتے وقت سیلاب کے خطرے، آبادی کی کمزوری، بنیادی سہولیات کی کمی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو دیکھنے کی تجویز دی گئی۔ نکاسی آب، سڑکوں، عوامی مقامات اور ماحول دوست اقدامات پر سرمایہ کاری زیر غور ہے۔ تاہم مجوزہ مالی معاونت کی منظوری، شرائط اور منصوبوں کے حتمی نفاذ سے متعلق فیصلے ابھی اس رپورٹ میں سامنے نہیں آئے۔
