کراچی: سندھ حکومت نے عالمی بینک سے مالی سال 2026-27 کے دوران سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے لیے 35 کروڑ امریکی ڈالر کی مالی معاونت طلب کی ہے۔ یہ درخواست صوبائی وزیر آب پاشی جام خان شورو اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ ڈان کی نو اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سیلابی نقصانات سے نمٹنے، شہری علاقوں کو قدرتی آفات سے محفوظ کرنے اور اہم شہروں و قصبوں میں بنیادی سہولتوں کی بحالی کے معاملات زیر بحث آئے۔

عالمی بینک کے وفد میں شہری ترقی کے ماہر سلیم روحانہ، ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اسپیشلسٹ بلال خالد اور امپارو سیمپر ہیرالدو شامل تھے۔ صوبائی حکومت کی نمائندگی وزیر آب پاشی کے علاوہ سیکریٹری آب پاشی ظریف کھیڑو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ اور متعلقہ عہدیداروں نے کی۔ اجلاس میں مجوزہ مالی معاونت کے استعمال اور ترجیحی شعبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

جام خان شورو نے کہا کہ حکومت کی ترجیح دیہی علاقوں کے ساتھ شہروں میں بھی ایسا انفراسٹرکچر بنانا ہے جو مستقبل میں شدید بارش، سیلاب اور دوسرے موسمی خطرات کا بہتر مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے پائیدار شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کی مؤثر سہولت، مقامی نظم و نسق اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار پر زور دیا۔ وزیر کے مطابق صرف تباہ ہونے والے ڈھانچے کی مرمت کافی نہیں بلکہ آئندہ نقصان کا خطرہ گھٹانا بھی ضروری ہے۔

اجلاس میں 2022 کے تباہ کن سیلاب کے اثرات پر بھی بات ہوئی۔ پیش کردہ بریفنگ کے مطابق صوبے میں ایک کروڑ چھیالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے، مالی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا تخمینہ 9.1 ارب ڈالر رہا اور تقریباً سترہ لاکھ دس ہزار مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل تباہ ہوئے۔ یہ اعداد 2022 کی تباہی کے ہیں، موجودہ سال میں آنے والے کسی نئے سیلاب کے نہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق عالمی بینک کے تعاون سے جاری مختلف منصوبوں میں پہلے ہی تقریباً ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی مالی سرگرمیاں متحرک کی جا چکی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 848 کلومیٹر سے زائد سڑکیں اور 205 کلومیٹر حفاظتی پشتے بحال کیے گئے، نو لاکھ سے زیادہ مکانات کی مرمت یا دوبارہ تعمیر ہوئی اور چودہ اضلاع میں ریسکیو 1122 کے چھبیس جدید مراکز قائم کیے گئے۔ یہ اعداد حکومت کی اجلاس میں پیش کردہ پیش رفت سے متعلق ہیں۔

نئے مجوزہ منصوبے کے ایک حصے میں بڑے آبی طاس کی سطح پر سیلابی تحفظ اور سندھ کے دائیں کنارے کے حساس علاقوں کا تحفظ شامل ہے۔ دوسرے حصے میں چھوٹے اور درمیانے شہروں کے لیے نکاسی آب، سڑکوں، عوامی مقامات اور ماحول دوست انتظامات کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ترجیحات کا تعین آبادی کی کمزوری، سیلابی خطرات اور سہولتوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے کرنے کا بتایا گیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ 35 کروڑ ڈالر کی رقم فی الحال سندھ حکومت کی درخواست ہے، عالمی بینک کی جانب سے منظور شدہ یا جاری شدہ فنڈنگ نہیں۔ آئندہ پیش رفت منصوبے کے جائزے، مالی منظوری، شرائط اور عمل درآمد کے طریقہ کار سے مشروط ہوگی۔