سانتیاگو: جنوبی امریکی ملک چلی کے دارالحکومت سانتیاگو اور گردونواح میں شدید بارشوں کے باعث جمعرات 8 اکتوبر 2026 کو سیلابی پانی سڑکوں اور آبادیوں میں داخل ہو گیا، کئی گاڑیاں بہہ گئیں اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ اس واقعے میں جمعرات تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر خوسے انتونیو کاست نے سانتیاگو کے مشرق میں واقع لاس کونڈیس ضلع میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ اس فیصلے سے متعلقہ سرکاری اداروں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مزید اختیارات ملتے ہیں۔ مقامی میئر کاتالینا سان مارٹن کے مطابق چند روز کے دوران علاقے میں 14.4 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اکتوبر کی اوسط بارش سے تقریباً نو گنا زیادہ ہے۔ مسلسل بارش نے زمین کو پانی سے بھر دیا، جس سے مزید مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ بڑھ گیا۔
سانتیاگو سے گزرنے والا دریائے ماپوچو بعض مقامات پر کناروں سے باہر آ گیا اور حکام کو انخلا کے احکامات جاری کرنا پڑے۔ ملک کے آفات سے نمٹنے والے ادارے نے مزید دس اضلاع کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث ہائی الرٹ پر رکھا۔ متاثرہ علاقوں میں جمعہ کے روز اسکول بند کرنے کے احکامات بھی دیے گئے۔ حکام کے مطابق خراب موسم میں امدادی کارروائیوں کو جاری رکھنا ایک فوری ترجیح ہے۔
فائر فائٹرز نے بتایا کہ انہوں نے ایک ہزار سے زیادہ افراد کو سیلابی علاقوں سے نکالا یا امداد فراہم کی۔ زخمیوں میں شامل ایک سالہ بچے کی ہڈیاں ٹوٹنے کی اطلاع دی گئی۔ دوسری جانب ہفتے کے آغاز میں آنے والے طوفانوں سے وسطی چلی کے متعدد گھروں کو نقصان پہنچا تھا اور سانتیاگو میں تقریباً بارہ ہزار صارفین بجلی سے محروم ہوئے تھے۔ یہ نقصان مختلف دنوں کی بارشوں سے متعلق رپورٹ کیا گیا، اس لیے تمام اثرات کو ایک ہی لمحے کے واقعے سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
سانتیاگو میں کئی راستے سیلابی نالوں کی شکل اختیار کر گئے اور بعض علاقوں میں گھروں، کاروباری مراکز اور طبی سہولتوں کے اطراف پانی اور کیچڑ جمع ہوا۔ ہنگامی امدادی کارروائیاں خصوصاً ایسے مقامات پر اہم رہیں جہاں لوگوں کی نقل و حرکت دشوار ہو گئی تھی۔ موسم کی پیش گوئی میں جمعہ کو بارش کی شدت کم ہونے کی توقع ظاہر کی گئی، تاہم اس کا مطلب فوری طور پر تمام علاقوں سے خطرہ ختم ہونا نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ شدید موسم ایسے وقت سامنے آیا جب بحرالکاہل میں ال نینو کا موسمی مظہر طاقت پکڑ رہا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی جمعرات کو سامنے آنے والی پیش گوئی میں کہا گیا کہ موجودہ ال نینو دسمبر تک اپنے عروج پر پہنچ سکتا ہے اور 1950 کے بعد طاقتور ترین واقعات میں شمار ہو سکتا ہے۔ ال نینو دنیا کے مختلف علاقوں میں بارش کے معمولات متاثر کرتا ہے، لیکن کسی مخصوص شہر کی ہر بارش کو اسی ایک عنصر کا براہ راست نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر احتیاط طلب ہے۔ چلی میں فوری توجہ شہری آبادی کے تحفظ، پانی کی نکاسی اور متاثرہ افراد کی امداد پر مرکوز ہے۔

