وسطی امریکی ملک پاناما میں جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے مختلف علاقوں کو ہلا دیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زلزلے سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، کچھ مقامات پر عمارتیں گریں اور دارالحکومت میں خوف زدہ لوگ دفاتر اور گھروں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کی شدت کے باوجود رپورٹ کے وقت بڑے پیمانے پر تباہی یا ہلاکتوں کی فوری اطلاع نہیں ملی تھی، تاہم ابتدائی جائزے کو حتمی نقصان کے تخمینے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

امریکی ارضیاتی سروے، یو ایس جی ایس، کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 12.6 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت پاناما سٹی سے تقریباً 200 کلومیٹر دور نسبتاً کم آبادی والے علاقے میں تھا۔ ادارے نے بعض جانی نقصانات کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ روئٹرز نے بتایا کہ اصل زلزلے کے بعد 40 سے زیادہ ضمنی جھٹکے بھی محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں تشویش برقرار رہی۔

پاناما کے صدر راؤل مولینو نے پینونومے کا دورہ کیا جہاں بعض عمارتیں منہدم ہوئیں اور ایک چرچ کو نقصان پہنچا۔ دارالحکومت میں دفاتر خالی کرائے جانے کے بعد سڑکوں پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جس کے سبب ٹریفک میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ کئی شہریوں نے غیرمعمولی طور پر طویل جھٹکے محسوس ہونے کی اطلاع دی۔ مقامی ارضیاتی ادارے کے سربراہ نے زلزلے کا تعلق ازویرو سونا فالٹ سسٹم سے بیان کیا۔

اہم اقتصادی تنصیبات کے بارے میں روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ پاناما کینال اور کوبرے پاناما تانبے کی کان نے معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رکھنے کی اطلاع دی۔ ٹوکومن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی عارضی معطلی ختم کردی گئی۔ ان اطلاعات سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ملک کے تمام علاقوں میں نقصان نہیں ہوا؛ رہائشی عمارتوں اور مقامی بنیادی سہولتوں کو مختلف مقامات پر اثرات کا سامنا رہا۔

امریکی ارضیاتی سروے کے ابتدائی تخمینے میں تقریباً 43 ہزار افراد کو شدید زلزلہ جاتی جھٹکوں کے علاقے میں شمار کیا گیا۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی نیچرجی کے مطابق چھ صوبوں میں بجلی کی بندش کی اطلاعات ملیں۔ متعلقہ اداروں کو عمارتوں کی مضبوطی، بجلی کی بحالی اور ضمنی جھٹکوں کے تناظر میں مزید جائزوں کی ضرورت ہوگی۔ زلزلے کے بعد تمام نقصانات کی تصدیق اور ممکنہ متاثرین کی مکمل تعداد سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔