خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے اسکول سے باہر بچوں کو رسمی تعلیمی نظام میں لانے اور لڑکیوں کے اندراج و حاضری بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کی تفصیل پیش کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں 4 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی اے پی پی رپورٹ کے مطابق محکمہ تعلیم کے پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ محمد اعجاز خلیل نے یہ معلومات خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور بلیو وینز کے مشترکہ بعد از بجٹ سیمینار میں دیں۔ بیان کردہ منصوبے مختلف مراحل میں ہیں؛ انہیں تمام اضلاع میں مکمل یا مطلوبہ اندراج حاصل ہونے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

محمد اعجاز خلیل کے مطابق مالی سال 2026-27 کے تعلیمی شعبے میں 73 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن کی مجموعی لاگت 125.14 ارب روپے بتائی گئی، جبکہ پہلے سہ ماہی عرصے کے لیے 3.89 ارب روپے مختص کیے گئے۔ مجموعی منصوبہ جاتی لاگت اور سہ ماہی مختص رقم میں فرق اہم ہے: پہلی رقم کئی منصوبوں کی پوری تخمینی مالیت بیان کرتی ہے، دوسری ابتدائی مدت میں دستیاب بجٹ ہے۔ رپورٹ میں ہر منصوبے کی الگ لاگت، ضلع وار تقسیم یا اب تک کے اخراجات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

محکمہ تعلیم تقریباً 10 ہزار اضافی کلاس رومز تعمیر کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ موجودہ اسکولوں کی گنجائش بڑھائی جاسکے۔ حکام نے 50 مساجد کو سرکاری پرائمری اسکولوں میں تبدیل کرنے یا ان میں رسمی ابتدائی تعلیم فراہم کرنے کا پروگرام بھی بیان کیا، جس کا مقصد ایسے علاقوں میں دستیاب عمارتوں سے فائدہ اٹھانا ہے جہاں بچوں کے لیے اسکول تک رسائی محدود ہے۔ رپورٹ میں ان 50 مقامات کی فہرست، داخل ہونے والے بچوں کی متوقع تعداد یا تعمیر و تدریس شروع ہونے کی یکساں تاریخ جاری نہیں ہوئی۔

اسکول سے باہر اور عمر کے لحاظ سے معمول کی جماعت سے بڑے بچوں کے لیے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور شراکت دار اداروں کے ذریعے صوبے میں تقریباً 300 ایکسیلریٹڈ لرننگ پروگرام مراکز قائم کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ ان مراکز کا مقصد کم مدت میں بنیادی تعلیمی خلا پُر کرکے بچوں کو موزوں جماعت یا متبادل تعلیمی راستے تک پہنچانا ہے۔ تاہم مرکز قائم ہونے اور طالب علم کا باقاعدہ تعلیم مکمل کرنے میں فرق ہے؛ مؤثر نتیجہ اندراج، مسلسل حاضری، سیکھنے کے معیار اور اگلی سطح میں منتقلی کے اعداد سے جانچا جائے گا۔

ضم شدہ اضلاع میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی معاونت سے ہر طالبہ کو ماہانہ 500 روپے وظیفہ دینے کا ذکر کیا گیا۔ صوبائی حکام کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت کے تحت اسے ایک ہزار روپے ماہانہ تک بڑھانے پر کام جاری تھا۔ رپورٹ نے اضافے کو مکمل نافذ شدہ ادائیگی قرار نہیں دیا، اس لیے موجودہ تصدیق شدہ رقم 500 روپے کی جاری معاونت اور ایک ہزار روپے کی زیر عمل تجویز یا انتظامی کوشش ہے۔ اہلیت، ادائیگی کا دورانیہ اور تمام مستفید طالبات کی تعداد الگ سے نہیں بتائی گئی۔

سیمینار میں بلیو وینز کے پروگرام منیجر قمر نسیم نے 2023 کی مردم شماری کے حوالے سے اندازہ پیش کیا کہ صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں لگ بھگ 29 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سے 16 سال عمر کی تقریباً 52 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں اور داخل ہونے والی لڑکیوں میں بڑی تعداد ثانوی سطح تک نہیں پہنچتی۔ یہ اعداد سیمینار میں سول سوسائٹی نمائندے کی تشریح سے منسوب ہیں؛ محکمہ تعلیم نے اسی نشست میں ان کی الگ تصدیقی جدول جاری نہیں کی۔

قمر نسیم کے مطابق تمام اسکول سے باہر بچوں کے لیے روایتی عمارتیں فراہم کرنے کو تقریباً 15 ہزار نئے اسکول درکار ہوسکتے ہیں، جبکہ صوبہ مکمل وسائل کے باوجود سالانہ قریب 300 اسکول تعمیر کرسکتا ہے۔ اسی محدود تعمیراتی رفتار کے باعث انہوں نے نجی اسکولوں سے اضافی جگہ خریدنے، غیر رسمی تعلیم اور کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی جیسے متبادل راستوں کی حمایت کی۔ یہ پالیسی تجاویز ہیں، نافذ شدہ حتمی معاہدے نہیں۔

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ رواں مالی سال تعلیم کا بجٹ تقریباً 11 فیصد بڑھایا گیا، لیکن مختص رقم کے مؤثر استعمال اور خاص طور پر لڑکیوں تک فائدہ پہنچنے کی نگرانی ضروری ہے۔ صوبائی اسمبلی کے سیکریٹری سید وقار شاہ نے نجی اسکولوں میں کم از کم اجرت کے نفاذ، خصوصاً خواتین اساتذہ کی تنخواہوں، کا مسئلہ اٹھایا اور متعلقہ فریقوں کو تجاویز کے لیے اسپیکر آفس کا پلیٹ فارم پیش کیا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 73 منصوبوں کا بجٹ، تقریباً 10 ہزار اضافی کلاس رومز پر کام، 50 مساجد سے متعلق اسکولی پروگرام، 300 تیز رفتار تعلیمی مراکز اور ضم اضلاع میں طالبات کے وظیفے کی جاری و مجوزہ سطحیں ہیں۔ ان اقدامات کی کامیابی کا فیصلہ تعمیر کی تعداد سے آگے بڑھ کر نئے اندراج، مستقل حاضری، جماعت مکمل کرنے، سیکھنے کے نتائج اور لڑکیوں کے ثانوی تعلیم تک پہنچنے کے قابلِ جانچ اعداد سے ہوگا۔